عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُوؐ نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی
آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی
تُوؐ نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا
تُوؐ نے ہر قطرے میں اک بحر کی وسعت لکھی
حُسنِ آخر نے کیا حُسن کو آخر تجھ پر
آخری رُوپ دیا، آخری سُورت لکھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُوؐ نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی
آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی
تُوؐ نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا
تُوؐ نے ہر قطرے میں اک بحر کی وسعت لکھی
حُسنِ آخر نے کیا حُسن کو آخر تجھ پر
آخری رُوپ دیا، آخری سُورت لکھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے
یہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے
اے تشنگی یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیں
اے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے
یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلا
یہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے