Showing posts with label خالد احمد. Show all posts
Showing posts with label خالد احمد. Show all posts

Monday, 31 July 2023

تو نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تُوؐ نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی

آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی

تُوؐ نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا

تُوؐ نے ہر قطرے میں اک بحر کی وسعت لکھی

حُسنِ آخر نے کیا حُسن کو آخر تجھ پر

آخری رُوپ دیا، آخری سُورت لکھی

Saturday, 29 July 2023

اے لب گرفتگی وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے

یہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے

اے تشنگی یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیں

اے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے

یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلا

یہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے

Sunday, 10 January 2016

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں

ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تُو نہ میں 
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تُو نہ میں 
حالات کے طلسم نے پتھرا دیا، مگر 
بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تُو نہ میں 
ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے 
وا کر سکا مگر لبِ گویا نہ تُو نہ میں 

دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

دم سادھ کے دیکھوں تجھے، جھپکوں نہ پلک بھی
آنکھوں میں سمو لوں تِرے لہجے کی دمک بھی
اے عشق! اگر مجھ کو تِرا اذن ہو ممکن
آغوش میں لے لو تِرے پیکر کی مہک بھی
اے ذکر! مِرے فکر کی تقدیر بدل دے
اے نور! مِرے نطق کے کاسے میں جھلک بھی

Sunday, 26 October 2014

ہم خدا کی رضا کے ساتھ رہے

ہم خدا کی رضا کے ساتھ رہے
گرد تھے سو، ہوا کے ساتھ رہے
راستوں کو ہوا نے گھیر لیا
 بھاگتوں کو خدا نے گھیر لیا
 خال ٹھہرے، گیاه پوش رہے
 عمر بھر ہم سیاہ پوش رہے

Wednesday, 19 March 2014

رات لبوں پر کیا کیا برسا ابر تری مہمانی کا

رات لبوں پر کیا کیا برسا ابر تِری مہمانی کا
پیاس کا جھولا جھول رہا تھا ایک کٹورا پانی کا
آنکھ میں نیند کا کاجل بھر کے، کھینچ کے خوابوں کے ڈورے
تھپک تھپک کے بھوک سُلا دی، جوڑ کے تار کہانی کا
کتنے سیہ فاقوں کے جلو میں کتنی صدیاں بِیت گئیں
لیکن پرجا بُھول نہ پائی قصہ راجا رانی کا

اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں

اسی غم کی اوٹ مِلا تھا وہ، مجھے پہلی بار یہیں کہیں
کسی چشمِ تر میں تلاش کر اُسے میرے یار یہیں کہیں
یہ جو سمتِ عشق میں جھیل ہے، یہ جو سمتِ غم میں پہاڑ ہیں
مِری راہ دیکھ رہا نہ ہو، مِرا شہ سوار یہیں کہیں
مِرے دل کے باب نہ کھولنا، مِرے جان و تن نہ ٹٹولنا
کسی زاویے میں پڑا نہ ہو، وہ بُتِ نگار یہیں کہیں

دیے کا دم کہیں اٹکا ہوا ہے

دِیے کا دَم کہیں اٹکا ہُوا ہے
سو، مُشکل، بھیڑنا پٹ کا ہُوا ہے
بس اِک اُمید پر ہم جی رہے ہیں
کہ وہ گھٹوال، تلچھٹ کا ہُوا ہے
ہماری وحشتوں کے ساتھ شہرہ
کسی کی خیرہ سر لَٹ کا ہُوا ہے

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے
کہ، دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے
وہ مصرع تھا کہ اِک گُلرنگ چہرہ
ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے
ہم ان آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں
یہ ہاتھ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے

دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتے

دل بھر آئے، تو سمندر نہیں دیکھے جاتے
 عکس، پانی میں اُتر کر نہیں دیکھے جاتے
 دیکھ، اے سُست روی! ہم سے کنارا کر لے
 ہر قدم، راہ کے پتھر نہیں دیکھے جاتے
 وہ چہک ہو کہ مہک، ایک ہی رُخ اُڑتی ہے
 برسرِ دوشِ ہوا، پَر نہیں دیکھے جاتے

سرخ ہوئے پھر نورِ نمو سے پھولوں کے رخسار

سرخ ہوئے، پھر نُورِ نمُو سے، پھولوں کے رُخسار
عکسِ جمالِ یار سے ٹھہرا، ہر چہرہ گُلنار
محملِ گل سے پاؤں نکالا، رات کی رانی نے
رخنہ رخنہ رَچ رَچ اُتری، دیواروں کے پار
قدم قدم خُوشبو کے الاؤ، پھر سے ہوئے روشن
گُل گھوروں پر، پھر سے لگے ہیں، رنگوں کے انبار

مری طرح کہیں شائستۂ وفا ہی نہ ہو

 مِری طرح کہیں شائستۂ وفا ہی نہ ہو
 وہ شخص کتنا حسیں ہے، کہیں یہ میں تو نہیں
 دیارِ دل میں رُلانے پہ کون روتا ہے
 یہ سب ہیں اہلِ غم اپنے تئیں، یہ میں تو نہیں
 قضا ہوا مِرا کیا کچھ، تِرے خرام کے ساتھ
 بچا ہے کیا، یہ ہے دُنیا کہ دِیں، یہ میں تو نہیں

زندگی بھر یہ بوجھ ڈھونا ہے

زندگی بھر یہ بوجھ ڈھونا ہے
آگہی عمر بھر کا رونا ہے
رات ان کے بدن کی چاندی تھی
صبح ان کے بدن کا سونا ہے
سایۂ دار، سایۂ دیوار
عشق کا اوڑھنا بِچھونا ہے

Saturday, 20 April 2013

کس شان کے پیوند ہیں کیا چاکِ قبا ہیں

کِس شان کے پیوند ہیں، کیا چاکِ قبا ہیں
صحرا کے بگوُلے تِری گلیوں میں گدا ہیں
تارے بھی ہمیں راہ سجھانے سے ہیں قاصر
ہم لوگ عجب دشت نوردانِ اَنا ہیں
فاقے ہیں، ہمیں گھر سے نکلنا نہیں آتا
آنسو ہیں، مگر ہم پسِ دیوار رِثا ہیں

Saturday, 30 March 2013

سر حیات اک الزام دھر گئے ہم بھی

سرِ حیات اِک الزام دھر گئے ہم بھی
کلام بھی نہ جِیا اور مر گئے ہم بھی
یہ عہد ایک مسیحا نفَس میں زندہ تھا
رہا نہ وہ بھی سلامت، بکھر گئے ہم بھی
چمک اُٹھا تھا وہ چہرہ، دھڑک اُٹھا تھا یہ دل
نہ اُس نے راستہ بدلا، نہ گھر گئے ہم بھی

Friday, 29 March 2013

اِک اجاڑ بستی کا اِک اداس جادہ تھا

اِک اجاڑ بستی کا اِک اداس جادہ تھا
اور بادیہ پیما ایک مستِ بادہ تھا
حسنِ کم نگاہی پر عمر بھر نہ کھل پایا
دل کی بند مٹھی میں ایک حرفِ سادہ تھا
عمر بھر کے غم لے کے چشمِ نم اُمڈ آئے
وجہِ گرم بازاری اک غلام زادہ تھا