برف کا ڈھیر ہوں صحرا ہوں نہ دریا ہوں میں
مت کو مت سوچ کہ آزاد پرندہ ہوں میں
میری رگ رگ میں لہو دوڑ رہا ہے تیرا
غور سے دیکھ مجھے تیرا ہی چہرہ ہوں میں
دُھوپ ٹھہری ہے نہیں آ کے کبھی میرے قریب
وقت کے تار پہ بھیگا ہوا کپڑا ہوں میں
برف کا ڈھیر ہوں صحرا ہوں نہ دریا ہوں میں
مت کو مت سوچ کہ آزاد پرندہ ہوں میں
میری رگ رگ میں لہو دوڑ رہا ہے تیرا
غور سے دیکھ مجھے تیرا ہی چہرہ ہوں میں
دُھوپ ٹھہری ہے نہیں آ کے کبھی میرے قریب
وقت کے تار پہ بھیگا ہوا کپڑا ہوں میں
صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو
صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو
یا تم کوئی نہیں ہو اور کہیں سے نہیں آئی ہو
وجود کے فنا ہونے کا احساس
معنی کی بے معنویت کی چُبھن
زندگی سے موت تک کا سفر
کیا تم نے ایک لحظہ طے میں کر لیا؟
کچھ نہیں جانتی جیتی ہوں کہ ہاری ہُوئی ہُوں
میں بہت سوچ سمجھ کر ہی تمہاری ہوئی ہوں
چل، تجھے چاند نگر آج گھما کر لاؤں
تیری خاطر مہ و انجم کی سواری ہوئی ہوں
اس کو چاہا بھی بہت، اس سے گریزاں بھی رہی
کیا پتا کون سے احساس کی ماری ہوئی ہوں
شبِ ہجراں کی اشاعت میں ہیں جاری آنکھیں
چھوڑ کر آئی ہیں خوابوں کی سواری آنکھیں
مجھ کو تعبیر کی صورت نظر آنے لگا تُو
سرمۂ خواب سے جب میں نے سنواری آنکھیں
آپ کا قرض، محبت میں چکاؤں بھی تو کیوں
آپ کی آنکھوں میں گروی ہیں ہماری آنکھیں