Showing posts with label صدف اقبال. Show all posts
Showing posts with label صدف اقبال. Show all posts

Wednesday, 17 April 2024

برف کا ڈھیر ہوں صحرا ہوں نہ دریا ہوں میں

 برف کا ڈھیر ہوں صحرا ہوں نہ دریا ہوں میں

مت کو مت سوچ کہ آزاد پرندہ ہوں میں

میری رگ رگ میں لہو دوڑ رہا ہے تیرا

غور سے دیکھ مجھے تیرا ہی چہرہ ہوں میں

دُھوپ ٹھہری ہے نہیں آ کے کبھی میرے قریب

وقت کے تار پہ بھیگا ہوا کپڑا ہوں میں

Sunday, 4 July 2021

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

یا تم کوئی نہیں ہو اور کہیں سے نہیں آئی ہو

وجود کے فنا ہونے کا احساس

معنی کی بے معنویت کی چُبھن

زندگی سے موت تک کا سفر

کیا تم نے ایک لحظہ طے میں کر لیا؟

Monday, 26 April 2021

کچھ نہیں جانتی جیتی ہوں کہ ہاری ہوئی ہوں

 کچھ نہیں جانتی جیتی ہوں کہ ہاری ہُوئی ہُوں

میں بہت سوچ سمجھ کر ہی تمہاری ہوئی ہوں

چل، تجھے چاند نگر آج گھما کر لاؤں

تیری خاطر مہ و انجم کی سواری ہوئی ہوں

اس کو چاہا بھی بہت، اس سے گریزاں بھی رہی

کیا پتا کون سے احساس کی ماری ہوئی ہوں

Tuesday, 17 November 2020

شب ہجراں کی اشاعت میں ہیں جاری آنکھیں

 شبِ ہجراں کی اشاعت میں ہیں جاری آنکھیں

چھوڑ کر آئی ہیں خوابوں کی سواری آنکھیں

مجھ کو تعبیر کی صورت نظر آنے لگا تُو

سرمۂ خواب سے جب میں نے سنواری آنکھیں

آپ کا قرض، محبت میں چکاؤں بھی تو کیوں

آپ کی آنکھوں میں گروی ہیں ہماری آنکھیں