Showing posts with label عبدالقادر تاباں. Show all posts
Showing posts with label عبدالقادر تاباں. Show all posts

Monday, 7 June 2021

وفا کی لہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی

 وفا کی لہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی

قدیم شہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی

کسی کے دُکھ میں میں خیانت کبهی نہیں کرتے

تو گویا دہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی

خوشی سے پاک بدن رینگتے ہیں کیچڑ میں

سمے کی نہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی

Sunday, 6 June 2021

دوستی پیار کے بولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

 دوستی پیار کے بولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

پیار برسے ہوئے اولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ہم پلٹ آئے محبت کی حسیں وادی سے

دوستو دور کے ڈھولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

چرخِ ہستی کی مسافت نے تھکا مارا ہے

وہ جو شاہیں تھے ممولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جس کو افسانہ زمانے نے بنا رکھا ہے

 جس کو افسانہ زمانے نے بنا رکھا ہے

ہم نے اس حشر کو سینے میں چھپا رکھا ہے

اک تِرے وعدۂ فردا کی فسُوں کاری نے

دل سے وحشی کو بھی انسان بنا رکھا ہے

دھیان آندھی کا بٹانے کو سرِ راہِ حیات

اک دِیا تیری تمنا کا جلا رکھا ہے

Saturday, 5 June 2021

تو اکیلا ہے ہزاروں کی کمی پوری کر

 تُو اکیلا ہے ہزاروں کی کمی پُوری کر

اے مِرے چاند! ستاروں کی کمی پوری کر

گھاس کے ساتھ ہرے ہوتے ہوئے زخم نہ گِن

شاخِ آزردہ! بہاروں کی کمی پوری کر

اس سے پہلے کہ جنوں صورتِ سیلاب بہے

اپنی باہوں سے کناروں کی کمی پوری کر

کملا یملا ہونا وجہ ننگ نہ تھا

 کملا یملا ہونا وجہِ ننگ نہ تھا

تیرا شہر تو پیارے شہرِ سنگ نہ تھا

اپنے آپ سے لڑتے لڑتے مارے گئے

عشق میں اپنے جیسا یار دبنگ نہ تھا

مانگ ہی لیتا ہم سے جان وہ دشمنِ جاں

تنگ تھا دامن، لیکن اتنا تنگ نہ تھا

Friday, 13 November 2020

مخلوق خدا ہنستے ہوئے جاں سے گئی ہے

 مخلوقِ خدا ہنستے ہوئے جاں سے گئی ہے

کیا خواب گری خواب گری خواب گری ہے

اے وقت پلٹ دیکھ قیامت کی گھڑی ہے

منزل میری دہلیز پہ خاموش کھڑی ہے

رک جائیں گے دیوارِ محبت نہ اٹھاؤ

اک خشتِ محبت ہی ہمیں یار بڑی ہے

Thursday, 12 November 2020

بند کمرے میں دہکتا ہوا ہیٹر تنہا

 بند کمرے میں دہکتا ہوا ہیٹر تنہا

اپنی تنہائی میں جلتا ہے دسمبر تنہا

در و دیوار پہ یادوں کے ٹھٹھرتے سائے

مجھ کو سینے سے لگائے ہوئے بستر تنہا

سنگ باری پہ اترتا ہوا وحشی موسم

کرچیاں ہوتا ہوا کانچ کا پیکر تنہا