وفا کی لہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
قدیم شہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
کسی کے دُکھ میں میں خیانت کبهی نہیں کرتے
تو گویا دہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
خوشی سے پاک بدن رینگتے ہیں کیچڑ میں
سمے کی نہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
وفا کی لہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
قدیم شہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
کسی کے دُکھ میں میں خیانت کبهی نہیں کرتے
تو گویا دہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
خوشی سے پاک بدن رینگتے ہیں کیچڑ میں
سمے کی نہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
دوستی پیار کے بولوں کے سوا کچھ بھی نہیں
پیار برسے ہوئے اولوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ہم پلٹ آئے محبت کی حسیں وادی سے
دوستو دور کے ڈھولوں کے سوا کچھ بھی نہیں
چرخِ ہستی کی مسافت نے تھکا مارا ہے
وہ جو شاہیں تھے ممولوں کے سوا کچھ بھی نہیں
جس کو افسانہ زمانے نے بنا رکھا ہے
ہم نے اس حشر کو سینے میں چھپا رکھا ہے
اک تِرے وعدۂ فردا کی فسُوں کاری نے
دل سے وحشی کو بھی انسان بنا رکھا ہے
دھیان آندھی کا بٹانے کو سرِ راہِ حیات
اک دِیا تیری تمنا کا جلا رکھا ہے
تُو اکیلا ہے ہزاروں کی کمی پُوری کر
اے مِرے چاند! ستاروں کی کمی پوری کر
گھاس کے ساتھ ہرے ہوتے ہوئے زخم نہ گِن
شاخِ آزردہ! بہاروں کی کمی پوری کر
اس سے پہلے کہ جنوں صورتِ سیلاب بہے
اپنی باہوں سے کناروں کی کمی پوری کر
کملا یملا ہونا وجہِ ننگ نہ تھا
تیرا شہر تو پیارے شہرِ سنگ نہ تھا
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے مارے گئے
عشق میں اپنے جیسا یار دبنگ نہ تھا
مانگ ہی لیتا ہم سے جان وہ دشمنِ جاں
تنگ تھا دامن، لیکن اتنا تنگ نہ تھا
مخلوقِ خدا ہنستے ہوئے جاں سے گئی ہے
کیا خواب گری خواب گری خواب گری ہے
اے وقت پلٹ دیکھ قیامت کی گھڑی ہے
منزل میری دہلیز پہ خاموش کھڑی ہے
رک جائیں گے دیوارِ محبت نہ اٹھاؤ
اک خشتِ محبت ہی ہمیں یار بڑی ہے
بند کمرے میں دہکتا ہوا ہیٹر تنہا
اپنی تنہائی میں جلتا ہے دسمبر تنہا
در و دیوار پہ یادوں کے ٹھٹھرتے سائے
مجھ کو سینے سے لگائے ہوئے بستر تنہا
سنگ باری پہ اترتا ہوا وحشی موسم
کرچیاں ہوتا ہوا کانچ کا پیکر تنہا