کملا یملا ہونا وجہِ ننگ نہ تھا
تیرا شہر تو پیارے شہرِ سنگ نہ تھا
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے مارے گئے
عشق میں اپنے جیسا یار دبنگ نہ تھا
مانگ ہی لیتا ہم سے جان وہ دشمنِ جاں
تنگ تھا دامن، لیکن اتنا تنگ نہ تھا
تیرے شہر کی آب و ہوا ہی ایسی ہے
میلا تھا پر دل پر، پہلے زنگ نہ تھا
سہمی سہمی دھوپ جو نکلی کُٹیا سے
آنکھیں پھاڑے، کون سویرا دنگ نہ تھا
ان چہروں کی مانگ تھی حسن کی منڈی میں
جن کو دل پرچانے کا بھی ڈھنگ نہ تھا
گورے! تیرے دیس کی ہیریں جھوٹی ہیں
گورے! تیرے دیس میں کوئی جھنگ نہ تھا
کلیوں پر بھی میرے خون کے چھینٹے ہیں
میرے قتل سے پہلے باغ میں رنگ نہ تھا
چھوڑ گیا تو دنیا کیوں پچھتاتی ہے؟
پاگل، جھلا، تاباں تیری منگ نہ تھا
عبدالقادر تاباں
No comments:
Post a Comment