Saturday, 5 June 2021

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

 کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

اور کچھ راستا نیا سا تھا

جھوٹ اور سچ کے درمیاں تھا جو

آج وہ پل بھی ٹوٹتا سا تھا

جس سے سارے چراغ جلتے تھے

وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا

راس آئے نہ اس کے رسم و رواج

شہر ہم سے خفا خفا سا تھا

بت سمجھتے تھے جس کو سارے لوگ

وہ مِرے واسطے خدا سا تھا


سلمان اختر

No comments:

Post a Comment