Saturday, 5 June 2021

یاد انداز محبت کے پرانے آئے

 یاد انداز محبت کے پرانے آئے

مجھ سے ملنے کو میرے بیتے زمانے آئے

ہائے افسوس مجھے اس سے محبت ہے کہ جو

پاس آئے بھی تو بس دل کو جلانے آئے

کسر باقی نہ رہی کوئی تو پھر اس سے کہو

حشر باقی ہے ابھی حشر اٹھانے آئے

آ ملا وقتِ اذاں، پوش بہ سر ہو کے مجھے

کام کس وقت شریعت کے بہانے آئے

اتنا بے بس ہوں تجھے چپ بھی کرا سکتا نہیں

میری میت پہ نہ اب اشک بہانے آئے

یہ جنازے پہ کھلا راز کہ سب میرے تھے

سارے احباب جو مل کر مجھے دفنانے آئے

روح قدموں سے نکلتی ہے شکر ہے نجمی

وہ دمِ مرگ بھی بستر کے سرہانے آئے

کتنا بد بخت ہے وہ باپ کہ جو دنیا میں

اپنے بچوں کے لیے دنیا کمانے آئے

جو میرے سخن کے بھیدی ہی نہیں تھے نجمی

وہ میری فکر کے گوہر کو چرانے آئے


نجم الحسن نجمی

No comments:

Post a Comment