یاد انداز محبت کے پرانے آئے
مجھ سے ملنے کو میرے بیتے زمانے آئے
ہائے افسوس مجھے اس سے محبت ہے کہ جو
پاس آئے بھی تو بس دل کو جلانے آئے
کسر باقی نہ رہی کوئی تو پھر اس سے کہو
حشر باقی ہے ابھی حشر اٹھانے آئے
آ ملا وقتِ اذاں، پوش بہ سر ہو کے مجھے
کام کس وقت شریعت کے بہانے آئے
اتنا بے بس ہوں تجھے چپ بھی کرا سکتا نہیں
میری میت پہ نہ اب اشک بہانے آئے
یہ جنازے پہ کھلا راز کہ سب میرے تھے
سارے احباب جو مل کر مجھے دفنانے آئے
روح قدموں سے نکلتی ہے شکر ہے نجمی
وہ دمِ مرگ بھی بستر کے سرہانے آئے
کتنا بد بخت ہے وہ باپ کہ جو دنیا میں
اپنے بچوں کے لیے دنیا کمانے آئے
جو میرے سخن کے بھیدی ہی نہیں تھے نجمی
وہ میری فکر کے گوہر کو چرانے آئے
نجم الحسن نجمی
No comments:
Post a Comment