کھوئے ہوئے صحرا تک اے بادِ صبا جانا
وہ خاکِ جنوں میری آنکھوں سے لگا جانا
اب تک کوئی چنگاری رہ رہ کے چمکتی ہے
اے قافلۂ فردا! یہ راکھ اُڑا جانا
ہے دشتِ تمنّا میں اب شام کا سناٹا
ہاں تیز قدم رکھتے اے اہلِ وفا جانا
کھوئے ہوئے صحرا تک اے بادِ صبا جانا
وہ خاکِ جنوں میری آنکھوں سے لگا جانا
اب تک کوئی چنگاری رہ رہ کے چمکتی ہے
اے قافلۂ فردا! یہ راکھ اُڑا جانا
ہے دشتِ تمنّا میں اب شام کا سناٹا
ہاں تیز قدم رکھتے اے اہلِ وفا جانا
لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملے
چارہ سازوں کو مِری شامِ بلا بھی نہ ملے
حسرت آگیں تو ہے ناکامیٔ منزل، لیکن
لطف تو جب ہے کہ خود اپنا پتا بھی نہ ملے
کچھ نگاہوں سے غم دل کی خبر ملتی ہے
ورنہ ہم وہ ہیں کہ باتوں سے ہوا بھی نہ ملے
عاشق ہوئے تو عشق میں ہشیار کیوں نہ تھے
ہم ان کے مدح خواں سرِ بازار کیوں نہ تھے
ہاں جب ستم کو عین کرم کہہ رہے تھے لوگ
ہم بھی شریک گرمئ گُفتار کیوں نہ تھے
جب چل رہا تھا وقت پہ جادو نگاہ کا
اک ہم اسیرِ چشمِ فسوں کار کیوں نہ تھے
آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئے
جب دل حریفِ آتش قہر و عتاب تھا
جاں دوستوں کی چارہ گری سے لبوں پہ تھی
سر دشمنوں کی سنگ زنی سے عذاب تھا
دامن سگانِ کوئے محبت سے تار تار
چہرہ خراشِ دستِ جنوں سے خراب تھا
قضا جو دے تو الٰہی ذرا بدل کے مجھے
ملے یہ جام انہی انکھڑیوں میں ڈھل کے مجھے
میں اپنے دل کے سمندر سے تشنہ کام آیا
پکارتی رہیں موجیں اچھل اچھل کے مجھے
نگاہ جس کے لیے بے قرار رہتی تھی
سزا ملی ہے اسی روشنی سے جل کے مجھے
اُجڑ کے گھر سے سرِ راہ آ کے بیٹھے ہیں
ہم اپنی ضد میں سبھی کچھ گنوا کے بیٹھے ہیں
کہاں تک اپنی ہی پرچھائیوں سے بھاگیں گے
یہ لوگ جو تِری محفل میں آ کے بیٹھے ہیں
اب آہ و زاریٔ غم خوار کا فریب کھُلا
یہ مہرباں بھی وہیں دل لگا کے بیٹھے ہیں