Showing posts with label وارث کرمانی. Show all posts
Showing posts with label وارث کرمانی. Show all posts

Sunday, 18 October 2026

کھوئے ہوئے صحرا تک اے باد صبا جانا

 کھوئے ہوئے صحرا تک اے بادِ صبا جانا

وہ خاکِ جنوں میری آنکھوں سے لگا جانا

اب تک کوئی چنگاری رہ رہ کے چمکتی ہے

اے قافلۂ فردا! یہ راکھ اُڑا جانا

ہے دشتِ تمنّا میں اب شام کا سناٹا

ہاں تیز قدم رکھتے اے اہلِ وفا جانا

Sunday, 2 January 2022

لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملے

 لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملے

چارہ سازوں کو مِری شامِ بلا بھی نہ ملے

حسرت آگیں تو ہے ناکامیٔ منزل، لیکن

لطف تو جب ہے کہ خود اپنا پتا بھی نہ ملے

کچھ نگاہوں سے غم دل کی خبر ملتی ہے

ورنہ ہم وہ ہیں کہ باتوں سے ہوا بھی نہ ملے

Thursday, 2 December 2021

عاشق ہوئے تو عشق میں ہشیار کیوں نہ تھے

 عاشق ہوئے تو عشق میں ہشیار کیوں نہ تھے

ہم ان کے مدح خواں سرِ بازار کیوں نہ تھے

ہاں جب ستم کو عین کرم کہہ رہے تھے لوگ

ہم بھی شریک گرمئ گُفتار کیوں نہ تھے

جب چل رہا تھا وقت پہ جادو نگاہ کا

اک ہم اسیرِ چشمِ فسوں کار کیوں نہ تھے

Thursday, 25 November 2021

آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئے

 آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئے

جب دل حریفِ آتش قہر و عتاب تھا

جاں دوستوں کی چارہ گری سے لبوں پہ تھی

سر دشمنوں کی سنگ زنی سے عذاب تھا

دامن سگانِ کوئے محبت سے تار تار

چہرہ خراشِ دستِ جنوں سے خراب تھا

Tuesday, 7 September 2021

قضا جو دے تو الٰہی ذرا بدل کے مجھے

 قضا جو دے تو الٰہی ذرا بدل کے مجھے

ملے یہ جام انہی انکھڑیوں میں ڈھل کے مجھے

میں اپنے دل کے سمندر سے تشنہ کام آیا

پکارتی رہیں موجیں اچھل اچھل کے مجھے

نگاہ جس کے لیے بے قرار رہتی تھی

سزا ملی ہے اسی روشنی سے جل کے مجھے

Wednesday, 23 June 2021

اجڑ کے گھر سے سر راہ آ کے بیٹھے ہیں

 اُجڑ کے گھر سے سرِ راہ آ کے بیٹھے ہیں

ہم اپنی ضد میں سبھی کچھ گنوا کے بیٹھے ہیں

کہاں تک اپنی ہی پرچھائیوں سے بھاگیں گے

یہ لوگ جو تِری محفل میں آ کے بیٹھے ہیں

اب آہ و زاریٔ غم خوار کا فریب کھُلا

یہ مہرباں بھی وہیں دل لگا کے بیٹھے ہیں