Showing posts with label پنکج سبیر. Show all posts
Showing posts with label پنکج سبیر. Show all posts

Tuesday, 1 March 2022

چاند میں ہے کوئی پری شاید

 چاند میں ہے کوئی پری شاید

اس لیے ہے یہ چاندنی شاید

لوگ اس کو مسیحا کہتے تھے

ویسے وہ بھی تھا آدمی شاید

دل کا دروازہ کھول رکھا ہے

یوں ہی آ جائے گا کوئی شاید

Monday, 3 January 2022

سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے

 سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے

اگر یہ صبح ہے تو رات کیا ہے

حسیں ہو چاند کتنا بھی پر اس کی

تمہارے سامنے اوقات کیا ہے

کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول لے کر

نہیں معلوم کہ خیرات کیا ہے

Tuesday, 7 December 2021

تیرا قول و قرار باقی ہے

 تیرا قول و قرار باقی ہے

اور مِرا انتظار باقی ہے

اب بھی چاہو تو تم پلٹ آؤ

اب بھی تھوڑی بہار باقی ہے

چاند کھڑکی پہ جب آ کے پوچھ رہا

اور کتنا سنگھار باقی ہے

Monday, 6 December 2021

ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو

 ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو

ابھی تو بس دعائیں لو ابھی تم عشق میں ہو

بھلے اپنے ہی گھر جانا ہے پر بُھولو گے رستہ

کسی کو ساتھ میں رکھو، ابھی تم عشق میں ہو

نہیں مانے گا کوئی بھی بُرا بالکل ذرا بھی

ابھی تم چاہے جو کہہ دو ابھی تم عشق ہو

Tuesday, 19 January 2021

چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگ

 چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگ

داستانِ عشق میں ہے تجربہ سب کا الگ

اجنبی ہم آج سے ہیں پر سفر تو ہے وہی

صرف کہہ دینے سے ہوتا ہے کہیں رستہ الگ

ایک لمحہ بس وہی ہے اور باقی کچھ نہیں

زندگی ساری الگ اور وصل کا لمحہ الگ