چاند میں ہے کوئی پری شاید
اس لیے ہے یہ چاندنی شاید
لوگ اس کو مسیحا کہتے تھے
ویسے وہ بھی تھا آدمی شاید
دل کا دروازہ کھول رکھا ہے
یوں ہی آ جائے گا کوئی شاید
چاند میں ہے کوئی پری شاید
اس لیے ہے یہ چاندنی شاید
لوگ اس کو مسیحا کہتے تھے
ویسے وہ بھی تھا آدمی شاید
دل کا دروازہ کھول رکھا ہے
یوں ہی آ جائے گا کوئی شاید
سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے
اگر یہ صبح ہے تو رات کیا ہے
حسیں ہو چاند کتنا بھی پر اس کی
تمہارے سامنے اوقات کیا ہے
کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول لے کر
نہیں معلوم کہ خیرات کیا ہے
تیرا قول و قرار باقی ہے
اور مِرا انتظار باقی ہے
اب بھی چاہو تو تم پلٹ آؤ
اب بھی تھوڑی بہار باقی ہے
چاند کھڑکی پہ جب آ کے پوچھ رہا
اور کتنا سنگھار باقی ہے
ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو
ابھی تو بس دعائیں لو ابھی تم عشق میں ہو
بھلے اپنے ہی گھر جانا ہے پر بُھولو گے رستہ
کسی کو ساتھ میں رکھو، ابھی تم عشق میں ہو
نہیں مانے گا کوئی بھی بُرا بالکل ذرا بھی
ابھی تم چاہے جو کہہ دو ابھی تم عشق ہو
چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگ
داستانِ عشق میں ہے تجربہ سب کا الگ
اجنبی ہم آج سے ہیں پر سفر تو ہے وہی
صرف کہہ دینے سے ہوتا ہے کہیں رستہ الگ
ایک لمحہ بس وہی ہے اور باقی کچھ نہیں
زندگی ساری الگ اور وصل کا لمحہ الگ