Monday, 3 January 2022

سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے

 سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے

اگر یہ صبح ہے تو رات کیا ہے

حسیں ہو چاند کتنا بھی پر اس کی

تمہارے سامنے اوقات کیا ہے

کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول لے کر

نہیں معلوم کہ خیرات کیا ہے

جھٹکئے تو ذرا زلفیں یہ بھیگی

یہ دل پوچھے ہے کہ برسات کیا ہے

ہے جیتا دل کو بازی ہار کر بھی

محبت ہے تو شہ اور مات کیا ہے

محبت کے محلے سے ہوں آیا

نہ پوچھو مجھ سے میری ذات کیا ہے


پنکج سبیر

No comments:

Post a Comment