Monday, 3 January 2022

نہ سارباں ہے نہ ناقہ دکھائی دیتا ہے

 نہ سارباں ہے نہ ناقہ دکھائی دیتا ہے

نہ جانے کس کا یہ خیمہ دکھائی دیتا ہے

بھرے جہاں میں اکیلا دکھائی دیتا ہے

وہ ایک شخص جو سچا دکھائی دیتا ہے

مسافرو کہوں کیا راہبر کے بارے میں

بظاہر آدمی سادہ دکھائی دیتا ہے

کہیں زمین کی تہ میں بھی شکل آب نہیں

کہیں پہاڑ پہ چشمہ دکھائی دیتا ہے

وہ آدمی جو کسی پر ستم نہ دیکھ سکے

مجھے وہ دیکھنے والا دکھائی دیتا ہے

وہ تیرگی ہے کہ کچھ بھی نظر نہیں آتا

بس اک امید کا تارہ دکھائی دیتا ہے

وہ دور دیکھ درختوں کے جھنڈ ہیں بیدی

وہ دور کوئی جزیرہ دکھائی دیتا ہے


جاوید اختر بیدی

No comments:

Post a Comment