نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی
دل ہی میں بات رہ گئی دل کی
گیسوئے یار میں یہ بات کہاں
اور ہی شے ہے برہمی دل کی
کھینچتے ہیں وہ تیر پہلو سے
کھوئے دیتے ہیں دل لگی دل کی
نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی
دل ہی میں بات رہ گئی دل کی
گیسوئے یار میں یہ بات کہاں
اور ہی شے ہے برہمی دل کی
کھینچتے ہیں وہ تیر پہلو سے
کھوئے دیتے ہیں دل لگی دل کی
شبِ فرقت قضا نہیں آتی
لاکھ کہتا ہوں آ، نہیں آتی
چُپ ہیں وہ سن کے شکوۂ اغیار
بات بھی تو بنا نہیں آتی
وہ تو وعدے پہ آ چکے اے موت
تُو بھی آتی ہے یا نہیں آتی
جو پوچھا صبر ہجر غیر میں کیا ہو نہیں سکتا
تو جھنجھلا کے کہا؛ تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا
وہ کہنا میرا اب تو صبر ہو سکتا نہیں ہم سے
تجاہل سے وہ ان کا پوچھنا؛ کیا ہو نہیں سکتا
سبب کیا غیر سے کیوں ترکِ الفت ہو نہیں سکتی
تم ایسا کر نہیں سکتے، کہ ایسا ہو نہیں سکتا
نالۂ دل کمال کا نکلا
ان سے پہلو وصال کا نکلا
دل کی چوری کی فال کھولی تھی
نام اس مہ جمال کا نکلا
دے گئے وہ جواب صاف مجھے
یہ نتیجہ سوال کا نکلا
ہجر میں جب خیالِ یار آیا
لب پہ نالہ ہزار بار آیا
پھر صفائی کی کون سی صورت
آپ کے دل میں جب غُبار آیا
کیجئے ذبح، کھینچیے خنجر
لیجئے، یہ گناہ گار آیا
ذکر دشمن ہے ناگوار کِسے
تم سناتے ہو بار بار کسے؟
مانگ لوں عمر خضر سے لیکن
تیرے وعدے کا اعتبار کسے؟
ہائے بے چپن کر دیا دمِ خواب
تُو نے اے آہ شعلہ بار! کسے؟