Showing posts with label نسیم بھرتپوری. Show all posts
Showing posts with label نسیم بھرتپوری. Show all posts

Wednesday, 14 April 2021

نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی

 نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی

دل ہی میں بات رہ گئی دل کی

گیسوئے یار میں یہ بات کہاں

اور ہی شے ہے برہمی دل کی

کھینچتے ہیں وہ تیر پہلو سے

کھوئے دیتے ہیں دل لگی دل کی

Wednesday, 31 March 2021

شب فرقت قضا نہیں آتی

 شبِ فرقت قضا نہیں آتی

لاکھ کہتا ہوں آ، نہیں آتی

چُپ ہیں وہ سن کے شکوۂ اغیار

بات بھی تو بنا نہیں آتی

وہ تو وعدے پہ آ چکے اے موت

تُو بھی آتی ہے یا نہیں آتی

Friday, 26 March 2021

جو پوچھا صبر ہجر غیر میں کیا ہو نہیں سکتا

 جو پوچھا صبر ہجر غیر میں کیا ہو نہیں سکتا

تو جھنجھلا کے کہا؛ تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا

وہ کہنا میرا اب تو صبر ہو سکتا نہیں ہم سے

تجاہل سے وہ ان کا پوچھنا؛ کیا ہو نہیں سکتا

سبب کیا غیر سے کیوں ترکِ الفت ہو نہیں سکتی

تم ایسا کر نہیں سکتے، کہ ایسا ہو نہیں سکتا

نالہ دل کمال کا نکلا

 نالۂ دل کمال کا نکلا

ان سے پہلو وصال کا نکلا

دل کی چوری کی فال کھولی تھی

نام اس مہ جمال کا نکلا

دے گئے وہ جواب صاف مجھے

یہ نتیجہ سوال کا نکلا

ہجر میں جب خیال یار آیا

 ہجر میں جب خیالِ یار آیا

لب پہ نالہ ہزار بار آیا

پھر صفائی کی کون سی صورت

آپ کے دل میں جب غُبار آیا

کیجئے ذبح، کھینچیے خنجر

لیجئے، یہ گناہ گار آیا

Tuesday, 24 November 2020

ذکر دشمن ہے ناگوار کسے

 ذکر دشمن ہے ناگوار کِسے

تم سناتے ہو بار بار کسے؟

مانگ لوں عمر خضر سے لیکن

تیرے وعدے کا اعتبار کسے؟

ہائے بے چپن کر دیا دمِ خواب

تُو نے اے آہ شعلہ بار! کسے؟