Friday, 26 March 2021

جو پوچھا صبر ہجر غیر میں کیا ہو نہیں سکتا

 جو پوچھا صبر ہجر غیر میں کیا ہو نہیں سکتا

تو جھنجھلا کے کہا؛ تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا

وہ کہنا میرا اب تو صبر ہو سکتا نہیں ہم سے

تجاہل سے وہ ان کا پوچھنا؛ کیا ہو نہیں سکتا

سبب کیا غیر سے کیوں ترکِ الفت ہو نہیں سکتی

تم ایسا کر نہیں سکتے، کہ ایسا ہو نہیں سکتا

یہ بُت قسمت کے پورے ہٹ کے پورے دھن کے پورے ہیں

کوئی ان میں سے ہو وعدے کا پورا ہو نہیں سکتا

نسیم اور آپ کو رُسوا کرے یہ غیر ممکن ہے

یہ فقرہ ہے کسی کا اس سے ایسا ہو نہیں سکتا


نسیم بھرتپوری

No comments:

Post a Comment