زرا سی مجھ میں خُودداری نہیں ہے
کہ یہ عزت ہے، ناداری نہیں ہے
ابھی قصدِ سفر باندھا ہے میں نے
سفر میرا ابھی جاری نہیں ہے
وہ چاہے ساتھ چھوڑے یا نبھائے
مجھے اب کوئی دُشواری نہیں ہے
رگِ جاں سے قریں ہے موت لیکن
ابھی کوئی بھی تیاری نہیں ہے
ابھی ہے شوق کا میلان باقی
ابھی تک جان تو واری نہیں ہے
گئے ہیں دل دُکھا کر کہنے والے
کہ ہم میں کوئی مکاری نہیں ہے
میں راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر جاگتا ہوں
میاں! یہ کوئی بیماری نہیں ہے
مجھے یاروں کے یاروں سے گِلہ کیا
میری تو خود سے بھی یاری نہیں ہے
کوئی کرتا ہے خواہش زندگی کی
کسی کو زندگی پیاری نہیں ہے
محبت نے بھی کیسا رنگ بدلا
محبت میں وفاداری نہیں ہے
عقیل فاروق
No comments:
Post a Comment