وقتِ آخر کسی کو دیکھا ہے
پھر نئی زندگی کو دیکھا ہے
دشت سے کل گزر ہوا میرا
قیس کی خودسری کو دیکھا ہے
آبلے پاؤں کے نہیں دیکھے
منزلِ عاشقی کو دیکھا ہے
وقتِ آخر کسی کو دیکھا ہے
پھر نئی زندگی کو دیکھا ہے
دشت سے کل گزر ہوا میرا
قیس کی خودسری کو دیکھا ہے
آبلے پاؤں کے نہیں دیکھے
منزلِ عاشقی کو دیکھا ہے
دل کے تہہ خانے تلک یار سنی جاتی ہے
بات خاموش لبوں سے جو کہی جاتی ہے
میں نے جانا ہے کسی دُکھ کے سفر میں لیکن
زندگی پاؤں کی زنجیر ہوئی جاتی ہے
جانبِ زیست مجھے چھوڑ دیا جاتا ہے
اور شانوں پہ مِرے موت رکھی جاتی ہے
آنکھ سے دور بہت دور ہدف رکھا ہے
خوف پھر اپنے ہی پہلو کی طرف رکھا ہے
کیسے ڈر جائیں گے انجام کی خبریں سن کر
خود کو آغاز سے جب تیغ بکف رکھا ہے
مان لی جائے گی اب بات قبیلے میں مِری
میرے کُرتے میں ذرا تیز کلف رکھا ہے
گھر سے نکلوں تو مجھے باپ دعا دیتا ہے
میری منزل کی لگن اور بڑھا دیتا ہے
میرا ایمان ہے جب آپ اسے دیکھتے ہیں
عکس آئینے کی توقیر بڑھا دیتا ہے
کوئی کیا جانے ہے کیا طرزِ اسیری اس کی
شام ہوتے ہی پرندوں کو اڑا دیتا ہے
یوں ہے ترے خیال سے اشعار کا وجود
جیسے ہے اینٹ، اینٹ سے دیوار کا وجود
تخلیق یوں تو حکم سے کُن کے ہوئی مگر
تزئین کائنات ہے سرکارﷺ کا وجود
قربت کے اک حصار نے گھیرا تو یوں لگا
جیسے بہشت میں ہو گنہ گار کا وجود