Showing posts with label فیضان فیضی. Show all posts
Showing posts with label فیضان فیضی. Show all posts

Saturday, 21 August 2021

وقت آخر کسی کو دیکھا ہے

 وقتِ آخر کسی کو دیکھا ہے

پھر نئی زندگی کو دیکھا ہے

دشت سے کل گزر ہوا میرا

قیس کی خودسری کو دیکھا ہے

آبلے پاؤں کے نہیں دیکھے

منزلِ عاشقی کو دیکھا ہے

Friday, 20 August 2021

دل کے تہ خانے تلک یار سنی جاتی ہے

 دل کے تہہ خانے تلک یار سنی جاتی ہے

بات خاموش لبوں سے جو کہی جاتی ہے 

میں نے جانا ہے کسی دُکھ کے سفر میں لیکن 

زندگی پاؤں کی زنجیر ہوئی جاتی ہے

جانبِ زیست مجھے چھوڑ دیا جاتا ہے

اور شانوں پہ مِرے موت رکھی جاتی ہے

Monday, 16 August 2021

آنکھ سے دور بہت دور ہدف رکھا ہے

 آنکھ سے دور بہت دور ہدف رکھا ہے

خوف پھر اپنے ہی پہلو کی طرف رکھا ہے

کیسے ڈر جائیں گے انجام کی خبریں سن کر

خود کو آغاز سے جب تیغ بکف رکھا ہے

مان لی جائے گی اب بات قبیلے میں مِری

میرے کُرتے میں ذرا تیز کلف رکھا ہے

Sunday, 15 August 2021

گھر سے نکلوں تو مجھے باپ دعا دیتا ہے

  گھر سے نکلوں تو مجھے باپ دعا دیتا ہے

میری منزل کی لگن اور بڑھا دیتا ہے

میرا ایمان ہے جب آپ اسے دیکھتے ہیں

عکس آئینے کی توقیر بڑھا دیتا ہے

کوئی کیا جانے ہے کیا طرزِ اسیری اس کی

شام ہوتے ہی پرندوں کو اڑا دیتا ہے

یوں ہے ترے خیال سے اشعار کا وجود

 یوں ہے ترے خیال سے اشعار کا وجود

جیسے ہے اینٹ، اینٹ سے دیوار کا وجود

تخلیق یوں تو حکم سے کُن کے ہوئی مگر

تزئین کائنات ہے سرکارﷺ کا وجود

قربت کے اک حصار نے گھیرا تو یوں لگا

جیسے بہشت میں ہو گنہ گار کا وجود