دل کے تہہ خانے تلک یار سنی جاتی ہے
بات خاموش لبوں سے جو کہی جاتی ہے
میں نے جانا ہے کسی دُکھ کے سفر میں لیکن
زندگی پاؤں کی زنجیر ہوئی جاتی ہے
جانبِ زیست مجھے چھوڑ دیا جاتا ہے
اور شانوں پہ مِرے موت رکھی جاتی ہے
کروٹیں میں نے بہت بدلیں بہت کوشش کی
نیند آتی ہے،۔ مگر آ کے چلی جاتی ہے
قیس کا تخت کہاں ہے تجھے معلوم ہے کیا؟
بند مُٹھی میں جہاں ریت بھری جاتی ہے
پاؤں دھنستے ہی چلے جائیں زمیں میں فیضی
اور زمیں مجھ سے بہت دور ہوئی جاتی ہے
فیضان فیضی
No comments:
Post a Comment