عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نُور سے نُور، نُور نُور ہُوا
اور پھر آپﷺ کا ظہور ہوا
ایک عادت درودؐ پڑھنے کی
خوف دُنیا کا دل سے دُور ہوا
آپﷺ کے روبرو رہی شب بھر
جس تجلی سے راکھ طُور ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نُور سے نُور، نُور نُور ہُوا
اور پھر آپﷺ کا ظہور ہوا
ایک عادت درودؐ پڑھنے کی
خوف دُنیا کا دل سے دُور ہوا
آپﷺ کے روبرو رہی شب بھر
جس تجلی سے راکھ طُور ہوا
یہ کام کر کے دِکھایا ہے میں نے چُھو کے اُسے
بشر، خدا سے بنایا ہے میں نے چھو کے اسے
کہ دیکھ! آپ ہی قسمت بنانی پڑتی ہے
ہزار بار بتایا ہے میں نے چھو کے اسے
قسم خدا کی اگر اس بدن کی خواہش ہو
بس اپنا مان بڑھایا ہے میں نے چھو کے اسے
مِرے لفظوں کی نبضیں کاٹ دی ہیں
ان آنکھوں نے وہ نظمیں کاٹ دی ہیں
بہت افسوس ہوتا ہے کبھی تو
یہ کن لوگوں میں عمریں کاٹ دی ہیں
لگے رہنے دئیے کمرے میں جالے
دریچے سے تو بیلیں کاٹ دی ہیں
بات ایسی ہے کہ اعصاب کو لے بیٹھی ہے
ایک مچھلی میرے تالاب کو لے بیٹھی ہے
آنکھ جس کے لیے ہلکان ہوئی جاتی تھی
وہی تعبیر مِرے خواب کو لے بیٹھی ہے
سوچتا ہوں کہ مِرے دوست تِری سبز دعا
کس طرح قریۂ شاداب کو لے بیٹھی ہے
اس خرابے سے کہیں دور نکلنے کے لیے
کوئی تیار نہیں ساتھ میں چلنے کے لیے
بھیج سکتا تھا میں اک لاش کے بدلے لاشیں
پھول بھیجے ہیں روایت کو بدلنے کے لیے
پہلی کوشش میں خسارہ ہی ہوا تھا اتنا
دوسرا عشق ضروری تھا سنبھلنے کے لیے
وہ جو بے یارو مددگار کہیں تھا، میں تھا
دُور اک شخص کو یہ پھر بھی یقیں تھا، میں تھا
ایک ہی شخص مصیبت میں مِرے ساتھ رہا
اور وہ شخص کوئی اور نہیں تھا میں تھا
پورے گاؤں میں اگر سب سے الگ تھی، وہ تھی
ان دنوں گاؤں میں جو سب سے حسیں تھا میں تھا
ظاہری طور طریقے کو کہاں مانتے تھے
دنیا والے مِرے رُتبے کو کہاں مانتے تھے
میں اگر شعر نہ کہتا تو مِرے شہر کے لوگ
ایک لوہار کے بیٹے کو کہاں مانتے تھے
یار چل تُو ہی بتا! تُو تو ہمیں جانتا ہے
ہم سے پتھر کسی صدمے کو کہاں مانتے تھے
بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے
تمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھے
یقین جان بہت ڈر گیا تھا اُس دن جب
گلے سے تُو نے اچانک لگا لیا تھا مجھے
بچھڑ گئے ہیں تو سارا قصور ہے تیرا
کہ تُو نے سر پہ جو اتنا چڑھا لیا تھا مجھے
آج خریدیں گے وہ جس کی شہرت سنتے آئے ہیں
جب سے ہوش سنبھالا ہے بس قیمت سنتے آئے ہیں
ورنہ، اتنی دیر میں جھگڑا ہو جاتا ہم دونوں میں
وہ تو سارے رستے میں ہم نصرت سنتے آئے ہیں
سچی بات تو یہ ہے، تیرے اندر ویسی بات نہیں
جس شجرے سے اب تک تیری نسبت سنتے آئے ہیں
بے کار کوئی رنج اٹھانے نہیں دیں گے
آنکھوں میں تِرے خواب ہی آنے نہیں دیں گے
ہم کو تو یہ ورثے میں ملے دکھ ہی، یقیں جان
یک طرفہ محبت بھی نبھانے نہیں دیں گے
کچھ خواب تو جیسے کہ مِرے پیچھے پڑے ہیں
یعنی کہ مجھے آنکھ لگانے نہیں دیں گے
یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے
ہمارے سامنے جب اُس کی ذات ہوتی ہے
ہر ایک بات کہ جس میں تمہارا ذکر نہیں
وہ جیسے دوسرے مسلک کی بات ہوتی ہے
ہمارے گاؤں میں سورج غروب ہو کہ نہ ہو
کسی کے آنکھ لگانے سے رات ہوتی ہے
بدن پہ ہجر کا تھپڑ رسید کرنے تک
تِرا وصال تھا مٹی پلید کرنے تک
میں جھوٹ بول کے بیٹے کو گھر تو لے آیا
نہ سو سکا میں کھلونے خرید کرنے تک
مجھے شمار نہ کرنا تم اپنی دنیا میں
خدا سے آخری گفت و شنید کرنے تک
مِری بساط میں جو تھا وہ سارا غم لگا دیا
مگر کسی کی یاد نے معاوضہ بڑھا دیا
سب اپنے اشک پونچھ لیں اداسیاں سمیٹ لیں
کہ مسکرانا فرض ہے، اگر وہ مسکرا دیا
وہ لمس، لاکھ زندگی کی کوششوں میں تھا مگر
دلوں میں ایسی برف تھی کہ خون تک جما دیا
دل میں اُتر گیا تھا جو دل سے مِرے اُتر گیا
چوٹی پہ ایک شخص تھا چوٹی سے گِر کے مر گیا
موجِ سرابِ غم کوئی ہم کو بہا کے لے گئی
خیر کہ یہ بھی سانحہ تاک میں تھا، گزر گیا
جانے تھا کب سے منتظر اس کی نظر پڑی نہیں
شاخ پہ ایک پھول تھا، شاخ پہ ہی بکھر گیا
پیش خیمہ یہ کسی اور مصیبت کا نہیں
دکھ ہے کچھ اور مِری جان مسافت کا نہیں
ہم مضافات سے آئے ہوئے لوگوں کا میاں
مسئلہ رزق کا ہوتا ہے، محبت کا نہیں
جسم کی جیت کوئی جیت نہیں میرے لیے
یہ وہ سامان ہے جو میری ضرورت کا نہیں
یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے
ہمارے سامنے جب اس کی ذات ہوتی ہے
ہر ایک بات کہ جس میں تمہارا ذکر نہیں
وہ جیسے دوسرے مسلک کی بات ہوتی ہے
ہمارے گاؤں میں سورج غروب ہو کہ نہ ہو
کسی کے آنکھ لگانے سے رات ہوتی ہے
سنی سنائی ہوئی بات نہ سنا مجھ کو
کوئی ثبوت اگر ہے تو لا دکھا مجھ کو
سفید جھوٹ کوئی بات تھی کہ جس کے بعد
خدا کو دیکھ رہا تھا میں، اور خدا مجھ کو
ہے تف تمام محبت کے دعوے داروں پر
اس ایک شخص کو پھر سوچنا پڑا مجھ کو
نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے
وہ مِرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہے
اور میں ٹیک ہٹاتا نہیں دروازے سے
عشق آواز لگاتا ہے، چلا جاتا ہے
چھیڑ وہ راگ لہو آنکھ سے نکلے دل کا
تُو بھی کیا گیت سناتا ہے، چلا جاتا ہے
میں سامنے بھی اگر ہوں تو ہچکچا نہیں تُو
کہ سیدھی بات کو ایسے گھما پھرا نہیں تو
انہیں بتا کہ محبت میں جی نہیں لگتا
انہیں بتا کہ مجھے ڈھونڈتا رہا نہیں تو
گرا کے بیگ تِری سمت دوڑ کر آیا
ذرا بھی اپنی جگہ سے مگر ہِلا نہیں تو
یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے
ابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہے
وہ گال سرخ ہوئے ہوں تو یوں لگیں جیسے
سفید ریشمی تھانوں سے خون بہتا ہے
یہ خامشی وہ بلا ہے کہ چیخ اٹھے اگر
تو سننے والوں کے کانوں سے خون بہتا ہے