Showing posts with label جہانزیب ساحر. Show all posts
Showing posts with label جہانزیب ساحر. Show all posts

Saturday, 2 December 2023

نور سے نور نور نور ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نُور سے نُور، نُور نُور ہُوا

اور پھر آپﷺ کا ظہور ہوا

ایک عادت درودؐ پڑھنے کی

خوف دُنیا کا دل سے دُور ہوا

آپﷺ کے روبرو رہی شب بھر

جس تجلی سے راکھ طُور ہوا

Wednesday, 15 November 2023

یہ کام کر کے دکھایا ہے میں نے چھو کے اسے

 یہ کام کر کے دِکھایا ہے میں نے چُھو کے اُسے

بشر، خدا سے بنایا ہے میں نے چھو کے اسے

کہ دیکھ! آپ ہی قسمت بنانی پڑتی ہے

ہزار بار بتایا ہے میں نے چھو کے اسے

قسم خدا کی اگر اس بدن کی خواہش ہو

بس اپنا مان بڑھایا ہے میں نے چھو کے اسے

Wednesday, 26 April 2023

مرے لفظوں کی نبضیں کاٹ دی ہیں

مِرے لفظوں کی نبضیں کاٹ دی ہیں

ان آنکھوں نے وہ نظمیں کاٹ دی ہیں 

بہت افسوس ہوتا ہے کبھی تو

یہ کن لوگوں میں عمریں کاٹ دی ہیں

لگے رہنے دئیے کمرے میں جالے

دریچے سے تو بیلیں کاٹ دی ہیں 

Tuesday, 18 April 2023

بات ایسی ہے کہ اعصاب کو لے بیٹھی ہے

 بات ایسی ہے کہ اعصاب کو لے بیٹھی ہے

ایک مچھلی میرے تالاب کو لے بیٹھی ہے

آنکھ جس کے لیے ہلکان ہوئی جاتی تھی

وہی تعبیر مِرے خواب کو لے بیٹھی ہے

سوچتا ہوں کہ مِرے دوست تِری سبز دعا

کس طرح قریۂ شاداب کو لے بیٹھی ہے

Wednesday, 29 March 2023

اس خرابے سے کہیں دور نکلنے کے لیے

 اس خرابے سے کہیں دور نکلنے کے لیے

کوئی تیار نہیں ساتھ میں چلنے کے لیے

بھیج سکتا تھا میں اک لاش کے بدلے لاشیں

پھول بھیجے ہیں روایت کو بدلنے کے لیے

 پہلی کوشش میں خسارہ ہی ہوا تھا اتنا

دوسرا عشق ضروری تھا سنبھلنے کے لیے

Saturday, 25 February 2023

وہ جو بے یارو مددگار کہیں تھا میں تھا

 وہ جو بے یارو مددگار کہیں تھا، میں تھا

دُور اک شخص کو یہ پھر بھی یقیں تھا، میں تھا

ایک ہی شخص مصیبت میں مِرے ساتھ رہا

اور وہ شخص کوئی اور نہیں تھا میں تھا

پورے گاؤں میں اگر سب سے الگ تھی، وہ تھی

ان دنوں گاؤں میں جو سب سے حسیں تھا میں تھا

Tuesday, 6 December 2022

ظاہری طور طریقے کو کہاں مانتے تھے

 ظاہری طور طریقے کو کہاں مانتے تھے

دنیا والے مِرے رُتبے کو کہاں مانتے تھے

میں اگر شعر نہ کہتا تو مِرے شہر کے لوگ

ایک لوہار کے بیٹے کو کہاں مانتے تھے

یار چل تُو ہی بتا! تُو تو ہمیں جانتا ہے

ہم سے پتھر کسی صدمے کو کہاں مانتے تھے

Tuesday, 19 July 2022

بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے

 بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے

تمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھے

یقین جان بہت ڈر گیا تھا اُس دن جب

گلے سے تُو نے اچانک لگا لیا تھا مجھے

بچھڑ گئے ہیں تو سارا قصور ہے تیرا

کہ تُو نے سر پہ جو اتنا چڑھا لیا تھا مجھے

Wednesday, 6 July 2022

آج خریدیں گے وہ جس کی شہرت سنتے آئے ہیں

 آج خریدیں گے وہ جس کی شہرت سنتے آئے ہیں

جب سے ہوش سنبھالا ہے بس قیمت سنتے آئے ہیں

ورنہ، اتنی دیر میں جھگڑا ہو جاتا ہم دونوں میں

وہ تو سارے رستے میں ہم نصرت سنتے آئے ہیں

سچی بات تو یہ ہے، تیرے اندر ویسی بات نہیں

جس شجرے سے اب تک تیری نسبت سنتے آئے ہیں

Sunday, 3 July 2022

بے کار کوئی رنج اٹھانے نہیں دیں گے

 بے کار کوئی رنج اٹھانے نہیں دیں گے

آنکھوں میں تِرے خواب ہی آنے نہیں دیں گے

ہم کو تو یہ ورثے میں ملے دکھ ہی، یقیں جان

یک طرفہ محبت بھی نبھانے نہیں دیں گے

کچھ خواب تو جیسے کہ مِرے پیچھے پڑے ہیں

یعنی کہ مجھے آنکھ لگانے نہیں دیں گے

Friday, 1 July 2022

یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے

 یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے

ہمارے سامنے جب اُس کی ذات ہوتی ہے

ہر ایک بات کہ جس میں تمہارا ذکر نہیں

وہ جیسے دوسرے مسلک کی بات ہوتی ہے

ہمارے گاؤں میں سورج غروب ہو کہ نہ ہو

کسی کے آنکھ لگانے سے رات ہوتی ہے

Tuesday, 28 June 2022

بدن پہ ہجر کا تھپڑ رسید کرنے تک

 بدن پہ ہجر کا تھپڑ رسید کرنے تک

تِرا وصال تھا مٹی پلید کرنے تک

میں جھوٹ بول کے بیٹے کو گھر تو لے آیا

 نہ سو سکا میں کھلونے خرید کرنے تک

مجھے شمار نہ کرنا تم اپنی دنیا میں 

خدا سے آخری گفت و شنید کرنے تک

Sunday, 26 June 2022

مری بساط میں جو تھا وہ سارا غم لگا دیا

 مِری بساط میں جو تھا وہ سارا غم لگا دیا

مگر کسی کی یاد نے معاوضہ بڑھا دیا

سب اپنے اشک پونچھ لیں اداسیاں سمیٹ لیں

کہ مسکرانا فرض ہے، اگر وہ مسکرا دیا

وہ لمس، لاکھ زندگی کی کوششوں میں تھا مگر

دلوں میں ایسی برف تھی کہ خون تک جما دیا

Wednesday, 22 June 2022

دل میں اتر گیا تھا جو دل سے مرے اتر گیا

 دل میں اُتر گیا تھا جو دل سے مِرے اُتر گیا

چوٹی پہ ایک شخص تھا چوٹی سے گِر کے مر گیا

موجِ سرابِ غم کوئی ہم کو بہا کے لے گئی

خیر کہ یہ بھی سانحہ تاک میں تھا، گزر گیا

جانے تھا کب سے منتظر اس کی نظر پڑی نہیں

شاخ پہ ایک پھول تھا، شاخ پہ ہی بکھر گیا

Saturday, 11 June 2022

پیش خیمہ یہ کسی اور مصیبت کا نہیں

 پیش خیمہ یہ کسی اور مصیبت کا نہیں

دکھ ہے کچھ اور مِری جان مسافت کا نہیں

ہم مضافات سے آئے ہوئے لوگوں کا میاں

مسئلہ رزق کا ہوتا ہے، محبت کا نہیں

جسم کی جیت کوئی جیت نہیں میرے لیے

یہ وہ سامان ہے جو میری ضرورت کا نہیں

Thursday, 28 April 2022

یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے

یہ بے بسی تو عموماً ہی ساتھ ہوتی ہے 

ہمارے سامنے جب اس کی ذات ہوتی ہے

ہر ایک بات کہ جس میں تمہارا ذکر نہیں 

وہ جیسے دوسرے مسلک کی بات ہوتی ہے

ہمارے گاؤں میں سورج غروب ہو کہ نہ ہو

کسی کے آنکھ لگانے سے رات ہوتی ہے

سنی سنائی ہوئی بات نہ سنا مجھ کو

 سنی سنائی ہوئی بات نہ سنا مجھ کو

کوئی ثبوت اگر ہے تو لا دکھا مجھ کو

سفید جھوٹ کوئی بات تھی کہ جس کے بعد

خدا کو دیکھ رہا تھا میں، اور خدا مجھ کو

ہے تف تمام محبت کے دعوے داروں پر

اس ایک شخص کو پھر سوچنا پڑا مجھ کو

Wednesday, 27 April 2022

نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے

 نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہے

وہ مِرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہے

اور میں ٹیک ہٹاتا نہیں دروازے سے

عشق آواز لگاتا ہے، چلا جاتا ہے

چھیڑ وہ راگ لہو آنکھ سے نکلے دل کا

تُو بھی کیا گیت سناتا ہے، چلا جاتا ہے

Monday, 25 April 2022

میں سامنے بھی اگر ہوں تو ہچکچا نہیں تو

 میں سامنے بھی اگر ہوں تو ہچکچا نہیں تُو

کہ سیدھی بات کو ایسے گھما پھرا نہیں تو

انہیں بتا کہ محبت میں جی نہیں لگتا

انہیں بتا کہ مجھے ڈھونڈتا رہا نہیں تو

گرا کے بیگ تِری سمت دوڑ کر آیا

ذرا بھی اپنی جگہ سے مگر ہِلا نہیں تو

Tuesday, 22 February 2022

یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے

 یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے

ابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہے

وہ گال سرخ ہوئے ہوں تو یوں لگیں جیسے

سفید ریشمی تھانوں سے خون بہتا ہے

یہ خامشی وہ بلا ہے کہ چیخ اٹھے اگر

تو سننے والوں کے کانوں سے خون بہتا ہے