آج خریدیں گے وہ جس کی شہرت سنتے آئے ہیں
جب سے ہوش سنبھالا ہے بس قیمت سنتے آئے ہیں
ورنہ، اتنی دیر میں جھگڑا ہو جاتا ہم دونوں میں
وہ تو سارے رستے میں ہم نصرت سنتے آئے ہیں
سچی بات تو یہ ہے، تیرے اندر ویسی بات نہیں
جس شجرے سے اب تک تیری نسبت سنتے آئے ہیں
اس سے پوچھو جس نے اپنی بیٹی کا دُکھ جھیلا ہو
سننے والے تو بس رب کی رحمت سنتے آئے ہیں
چور ہمیشہ ساحر اس کے اپنے دل میں ہوتا ہے
اور بے چارے چوکیدار کی غفلت سنتے آئے ہیں
جہانزیب ساحر
No comments:
Post a Comment