Wednesday, 6 July 2022

آج خریدیں گے وہ جس کی شہرت سنتے آئے ہیں

 آج خریدیں گے وہ جس کی شہرت سنتے آئے ہیں

جب سے ہوش سنبھالا ہے بس قیمت سنتے آئے ہیں

ورنہ، اتنی دیر میں جھگڑا ہو جاتا ہم دونوں میں

وہ تو سارے رستے میں ہم نصرت سنتے آئے ہیں

سچی بات تو یہ ہے، تیرے اندر ویسی بات نہیں

جس شجرے سے اب تک تیری نسبت سنتے آئے ہیں

اس سے پوچھو جس نے اپنی بیٹی کا دُکھ جھیلا ہو

سننے والے تو بس رب کی رحمت سنتے آئے ہیں

چور ہمیشہ ساحر اس کے اپنے دل میں ہوتا ہے

اور بے چارے چوکیدار کی غفلت سنتے آئے ہیں


جہانزیب ساحر

No comments:

Post a Comment