Showing posts with label اسد ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label اسد ہاشمی. Show all posts

Monday, 2 May 2022

سب کے سب کہنے لگے ہیں یہ میری تائید میں

بلاگ کی طرف سے تمام فالورز اور قارئین کو عید مبارک ہو


سب کے سب کہنے لگے ہیں یہ میری تائید میں

عید کی خوشیاں ہیں پوشیدہ تمہاری دید میں

مجھ سے اس طرح تعلق رکھنا اے یارانِ من

جس طرح سے ہے تعلق چاند رات اور عید میں

وقت کم ہے جلدی جلدی کیجئے مطلب کی بات

وقت مت برباد کیجے آپ بھی تمہید میں

Monday, 25 April 2022

خود فریبی کا جال میں اور تو

 خود فریبی کا جال میں اور تُو

عشق ہجر و وصال میں اور تو

شازشیں ان کی ہو گئی ناکام

بچ گئے بال بال میں اور تو

تیسرا شہر میں کوئی بھی نہیں

ہیں فقط ہم خیال میں اور تو

Sunday, 24 April 2022

گر یہ کاغذ قلم نہیں ہوتا

 گر یہ کاغذ قلم نہیں ہوتا

حال دل کا رقم نہیں ہوتا

ہم کہاں تجھ کو ڈھونڈتے اے دل

گر یہ دیر و حرم نہیں ہوتا

ایک میں ہی نہیں ہوں رنجیدہ

کون ہے جس کو غم نہیں ہوتا

ہوش میں آ گیا زمانۂ دل

 ہوش میں آ گیا زمانۂ دل

جب پڑا دل پہ تازیانۂ دل

کیسے نظروں کے تیر کو روکوں

جب لگائے کوئی نشانۂ دل

بول صندوق جسم سے تُو نے

کیوں چرایا مِرا خزانۂ دل

Saturday, 23 April 2022

حکم ان کا ہے میرے یار زرا صبر کرو

حکم ان کا ہے میرے یار زرا صبر کرو

دن گزر جانے دو چار، زرا صبر کرو

اس بلا میں تو فقط تم ہی گرفتار نہیں

عشق میں میں بھی ہوں بیمار زرا صبر کرو

دیکھنا تم پہ ہی آنکر یہ گرے گی اک دن

حسن کی یہ حسیں دیوار زرا صبر کرو

Friday, 22 April 2022

وہ بھی جا کر وہیں پہ ٹھہرا ہے

 وہ بھی جا کر وہیں پہ ٹھہرا ہے

خوشبوؤں کا جہاں بسیرا ہے

بس یہی سوچنے میں گم تھا میں

آئینہ ہے کہ تیرا چہرا ہے

میرے دل کے مکان میں جاناں

تیرے ہی نام کا پھریرا ہے

Thursday, 21 April 2022

دسترس میں میری کہاں ہو تم

 دسترس میں میری کہاں ہو تم

میں زمیں اور آسماں ہو تم

تنکا تنکا جہاں سجا ہوں میں

وہ نشیمن، وہ آشیاں ہو تم

میں مسافر ہوں تپتے صحرا کا

میری نظروں میں سائباں ہو تم

Wednesday, 20 April 2022

الفت میں تیری راہ صداقت کے باوجود

 الفت میں تیری راہ صداقت کے باوجود

بدنام ہو گیا ہوں شرافت کے باوجود

لرزش ہو ہاتھ میں کہ بہے اشک آنکھ سے

پڑھنا پڑے گا خط کو طوالت کے باوجود

آخر کہ تونے شیشۂ دل توڑ ہی دیا

اے پیکر جمال حفاطت کے باوجود

Tuesday, 19 April 2022

کہیں بلند خدا پھر صدائے آہ نہ ہو

 کہیں بلند خدا پھر صدائے آہ نہ ہو

میری طرح سے کسی کو کسی کی چاہ نہ ہو

خدا ملا دے تو اس پیکرِ حیا سے مجھے

تیری نظر میں محبت اگر گناہ نہ ہو

زمانے بھر کی نگاہوں سے تو رہے محفوظ

میرے سوا تجھے دیکھے کوئی نگاہ نہ ہو

Monday, 18 April 2022

میری چاہت مرے الفت کی کہانی سن لو

 میری چاہت مِرے الفت کی کہانی سن لو

لب تو خاموش ہیں اشکوں کی زبانی سن لو

چھوڑ کر جانا ہے تم کو تو چلی جاؤ مگر

یاد آئے گا بہت دلبر و جانی، سن لو

خواہشوں کے لیے بند کر کے در دل سوچا

عمر تھوڑی ہے یہ دنیا بھی ہے فانی سن لو

Sunday, 17 April 2022

صحرائے محبت کو گلزار کریں گے ہم

صحرائے محبت کو گلزار کریں گے ہم

ہاں جان سے بھی بڑھ کر تمہیں پیار کریں گے ہم

ہم لوگ زمانے سے کچھ بھی نہ چھپائیں گے

ہر بات کو اب اپنی اخبار کریں گے ہم

خوابوں میں کبھی ہم نے سوچا نہ تھا اس طرح

چاہت میں تِری خود کو بیمار کریں گے ہم

Saturday, 16 April 2022

دونوں میں کوئی ایک ہے اے خوبرو غلط

 دونوں میں کوئی ایک ہے اے خوبرو غلط

میں ہوں اگر صحیح، تو یقیناً ہے تو غلط

میں بدگماں ہوں ان سے زرا سچ بتائے

کس نے اڑائی ہے یہ خبر کو بکو غلط

مجھ کو یہ خوف ہے کہ زمانے کے نام سے

دل میں نہ جاگ جائے کوئی آرزو غلط

Thursday, 14 April 2022

لمحہ لمحہ سانس ہارے جاؤ گے

 لمحہ لمحہ سانس ہارے جاؤ گے

تم بنا مارے ہی مارے جاؤ گے

آسماں پر ہے اٹھایا اس لیے

تم زمیں پر پھر اتارے جاؤ گے

اس کی رسی تھام لو اے دوستو

ورنہ اس تک کس سہارے جاؤ گے

Wednesday, 13 April 2022

تو بے رخی سے سہی ہم سے ہمکلام تو ہے

 تُو بے رخی سے سہی ہم سے ہمکلام تو ہے

تِرے حیسن لبوں پہ ہمارا نام تو ہے

تُو دیکھتے ہی جھکا لیتا ہے نگاہوں کو

تِری نظر میں مِرا اتنا احترام تو ہے

یہ اور بات کے ملتے نہیں ہیں ہم دونوں

ہمارے بیچ میں لیکن دعا سلام تو ہے

Saturday, 9 April 2022

میری جاں کے واسطے ہے تیری غمخواری عذاب

 میری جاں کے واسطے ہے تیری غمخواری عذاب

ہو رہا ہے روز میری روح پر طاری عذاب

اک طرف تو تیرا غم ہے اک طرف تنہائیاں

جھیلنا پڑتا ہے جاناں مجھ کو دو دھاری عذاب

خواب میں دیدار تیرا ہورہا تھا خیر سے

لگ رہی ہے مجھ ہی اب میری بیداری عذاب

Thursday, 7 April 2022

یاد آتا ہے وہ بھولے ہوئے خوابوں کی طرح

 یاد آتا ہے وہ بھولے ہوئے خوابوں کی طرح

کاش تعبیر بھی ہو جائے گلابوں کی طرح

تجھ کو شاید نہ خبر ہو کے تِرے چہرے پہ

حال دل پڑھ لیا میں نے بھی کتابوں کی طرح

میں نے اے دل یہی چاہا تھا کہ وقتِ رخصت

اشک حائل نہ ہو آنکھوں پہ نقابوں کی طرح

Wednesday, 6 April 2022

بجلیوں کا کرم ہوا کہ نہیں

 بجلیوں کا کرم ہوا کہ نہیں

پھر کوئی آشیاں جلا کے نہیں

جا رہا تھا جو اپنی دُھن میں مگن

میری آرزو پہ روکا کہ نہیں

اس کے آنے سے آج محفل میں

شور محشر سا اک بپا کہ نہیں

Monday, 4 April 2022

نظریں خرید لوں کہ نظارہ خرید لوں

 نظریں خرید لوں کہ نظارا خرید لوں

بتلاؤ کیا میں تم سے تمہارا خرید لوں

کچھ بھی بچا کہ رکھوں نہ غیروں کے واسطے

سب کچھ میں آج تم سے تمہارا خرید لوں

نقد و ادھار جیسے بھی ہو دل کا حکم ہے

تم سے میں تم کو سارا کہ سارا خرید لوں

Thursday, 24 March 2022

تیری عنایتوں کی زبانی زمین پر

 تیری عنایتوں کی زبانی زمین پر

بکھری پڑی ہے کتنی کہانی زمین پر

جگنو کی خواہشات کی تکمیل کے لیے

خوشبو بکھیرے رات کی رانی زمین پر

اے آسمان! دل میں چھپا کر تِری طلب

ہم نے گزار دی ہے جوانی زمین پر

Tuesday, 22 March 2022

حیرت سے تک رہے ہیں یہ شمش و قمر مجھے

 حیرت سے تک رہے ہیں یہ شمش و قمر مجھے

لگ جائے پھر نہ آج کسی کی نظر مجھے

کیوں ہچکیاں ستاتی ہے شام و سحر مجھے

کرتا ہے کون یاد یہاں اس قدر مجھے?

اے خوشبوؤ! بتاؤ انہیں کہ میں کون ہوں

پہجانتے نہیں ہیں یہ دیوار و در مجھے