کہیں بلند خدا پھر صدائے آہ نہ ہو
میری طرح سے کسی کو کسی کی چاہ نہ ہو
خدا ملا دے تو اس پیکرِ حیا سے مجھے
تیری نظر میں محبت اگر گناہ نہ ہو
زمانے بھر کی نگاہوں سے تو رہے محفوظ
میرے سوا تجھے دیکھے کوئی نگاہ نہ ہو
اگر تو کہہ دے میں اقبال جرم خود کر لوں
میرے خلاف تیرے پاس گر گواہ نہ ہو
کوئی یہ چاہے نہ چاہے مگر میں یہ چاہوں
تیرے سکون کی دنیا کبھی تباہ نہ ہو
اسد! کو کر دے مقید تو زنداں میں
فرار ہونے کی جس میں کوئی بھی راہ نہ ہو
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment