Tuesday, 19 April 2022

کہیں بلند خدا پھر صدائے آہ نہ ہو

 کہیں بلند خدا پھر صدائے آہ نہ ہو

میری طرح سے کسی کو کسی کی چاہ نہ ہو

خدا ملا دے تو اس پیکرِ حیا سے مجھے

تیری نظر میں محبت اگر گناہ نہ ہو

زمانے بھر کی نگاہوں سے تو رہے محفوظ

میرے سوا تجھے دیکھے کوئی نگاہ نہ ہو

اگر تو کہہ دے میں اقبال جرم خود کر لوں

میرے خلاف تیرے پاس گر گواہ نہ ہو

کوئی یہ چاہے نہ چاہے مگر میں یہ چاہوں

تیرے سکون کی دنیا کبھی تباہ نہ ہو

اسد! کو کر دے مقید تو زنداں میں

فرار ہونے کی جس میں کوئی بھی راہ نہ ہو


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment