ظلمت تراش دستِ ستم گر نہیں ہوں میں
اک عَبْدِ کردگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں
جیون کے پھول جس سے کِھلیں میں ہوں وہ صبا
گُل ہوں چراغ جس سے وہ صر صر نہیں ہوں میں
دریا کو آبشار کو جھیلوں کو ہے خبر
ساغر بکف ہوں موجِ سمندر نہیں ہوں میں
ظلمت تراش دستِ ستم گر نہیں ہوں میں
اک عَبْدِ کردگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں
جیون کے پھول جس سے کِھلیں میں ہوں وہ صبا
گُل ہوں چراغ جس سے وہ صر صر نہیں ہوں میں
دریا کو آبشار کو جھیلوں کو ہے خبر
ساغر بکف ہوں موجِ سمندر نہیں ہوں میں
عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہؑ
بیٹی جو فاطمہؑ ہے شہ مشرقینؐ کی
زوجہ علیؑ ولی کی ہے مادر حسینؑ کی
بنتِ رسولِ پاکﷺ کا طاعت گزار بن
گر چاہتا ہے زیست میسر ہو چین کی
شیرِ خدا کی مدح میں بنتِ رسول نے
دن کو گزارا شکر میں سجدے میں رین کی
مجالس میں علی مولا کا جب دیوانہ آتا ہے
زباں پر قدسیوں کے نعرۂ مستانہ آتا ہے
جبیں خاکِ شفا پر رکھ کے کہتا ہوں سبحان اللہ
بحکمِ رب مجھے جنت سے آب و دانہ آتا ہے
خدا کا شکر ہے ذکرِ ولایت کے وسیلہ سے
درِ زہرا سے ہر لحظہ مجھے نذرانہ آتا ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
بولی فضہؑ سے یہ زینبؑ ہے قیامت دیکھو
سر بریدہ ہے مِرے بھائی کی میت دیکھو
لوٹنے آئے ہیں عباسؑ تِرے بعد عدو
کانوں سے بالی سکینہؑ کی ہاں دولت دیکھو
دے سکی کرب و بلا میں نہ کفن بھائی کو
ہائے زینبؑ پہ یہ کیسی ہے مصیبت دیکھو
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
ازل سے تا بہ ابد کبریا حسین کے ساتھ
علی بتول حسن مصطفیٰ حسین کے ساتھ
وفا کے رب نے یہ مقتل میں شہ سے فرمایا
قسم بتول کی ہو گی وفا حسین کے ساتھ
غضب خدا کا کہ تُو ہے بہشت کا طالب
کرے الست سے جو تُو دغا حسین کے ساتھ
راہنما کل کارواں کے راہ زن
عزتوں کا لوٹتے رہتے ہیں دھن
فکر انساں پر ہے چھائی تیرگی
بے چراغاں جا بجا اہلِ سخن
گُل میں رنگ و بُو نہیں تو جان لے
دشت کی مانند ہے تیرا چمن
مختصر نظم
عشق وہ کنارہ ہے
جس کی بانہوں میں رہ کر
حُسن کا حسیں ساگر
پُر سکون بہتا ہے
مرتضیٰ زمان گردیزی
جہاں چمن میں بہار آ کر بھی مسکرائے تو کچھ نہ پائے
وہاں پہ بھنورا کلی کے آگے سُروں میں گائے تو کچھ نہ پائے
شجر کی چہرے پہ انگلیوں کے قلم سے ہم نے ہے عشق لکھا
جنوں میں ہم نے یہ کارنامے بھی کر دِکھانے تو کچھ نہ پائے
گلاب رُخ کے دلوں پہ ہم نے پپیہے جیسا تڑپ کے یارو
محبتوں کے حسین نغمے بھی گنگنائے تو کچھ نہ پائے
سید مرتضیٰ زمان گردیزی؛ تعارف
نام؛ مرتضیٰ زمان
خاندان؛ سادات گردیزی (زیدی الواسطی)
تاریخ پیدائش؛ 10 اپریل 1973
رہائش؛ ملتان، پاکستان
تعلیم؛ انٹر میڈیٹ (کراچی)
قومیت؛ پاکستانی
عرفیت؛ مرتضیٰ
صنف شاعری؛ صوفیانہ کلام، رثائی ادب، نظم، غزل
زبان؛ ملتانی، اردو
"وقت یہ ناز مسیحا ہے مسیحائی کا"
نوحہ سن لیجئے آقاﷺ یہ تمنائی کا
اپنی ندوہ میں کرو ذکر محمدﷺ نے کہا
میرے وارث کا مِرے شیر جلی بھائی کا
نعت سرکارؐ پہ دن رات کہوں میں یا رب
ہو مجھے رزق عطا فکر کی بینائی کا
کتابِ حق میں جو تازہ گلاب رکھتے ہیں
عقیدہ با خدا وہ ٭مستطاب رکھتے ہیں
سدا درود جو پڑھتے ہیں آلِ احمدﷺ پر
وہ لوگ شب میں رخِ مہتاب رکھتے ہیں
وہی ہیں عبد، خدا کے، بقول شاہِ اُممﷺ
جو دل میں انس، شہِ بُوتراب رکھتے ہیں