Showing posts with label مرتضیٰ زمان گردیزی. Show all posts
Showing posts with label مرتضیٰ زمان گردیزی. Show all posts

Wednesday, 5 July 2023

ظلمت تراش دست ستم گر نہیں ہوں میں

 ظلمت تراش دستِ ستم گر نہیں ہوں میں

اک عَبْدِ کردگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں  

جیون کے پھول جس سے کِھلیں میں ہوں وہ صبا 

گُل ہوں چراغ جس سے وہ صر صر نہیں ہوں میں 

دریا کو آبشار کو جھیلوں کو ہے خبر

ساغر بکف ہوں موجِ سمندر نہیں ہوں میں 

Thursday, 16 September 2021

بیٹی جو فاطمہ ہے شہ مشرقین کی

 عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہؑ


بیٹی جو فاطمہؑ ہے شہ مشرقینؐ کی

زوجہ علیؑ ولی کی ہے مادر حسینؑ کی

بنتِ رسولِ پاکﷺ کا طاعت گزار بن

گر چاہتا ہے زیست میسر ہو چین کی

شیرِ خدا کی مدح میں بنتِ رسول نے

دن کو گزارا شکر میں سجدے میں رین کی

Friday, 10 September 2021

مجالس میں علی مولا کا جب دیوانہ آتا ہے

 مجالس میں علی مولا کا جب دیوانہ آتا ہے

زباں پر قدسیوں کے نعرۂ مستانہ آتا ہے

جبیں خاکِ شفا پر رکھ کے کہتا ہوں سبحان اللہ

بحکمِ رب مجھے جنت سے آب و دانہ آتا ہے

خدا کا شکر ہے ذکرِ ولایت کے وسیلہ سے

درِ زہرا سے ہر لحظہ مجھے نذرانہ آتا ہے

Monday, 16 August 2021

بولی فضہ سے یہ زینب ہے قیامت دیکھو

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 بولی فضہؑ سے یہ زینبؑ ہے قیامت دیکھو

سر بریدہ ہے مِرے بھائی کی میت دیکھو

لوٹنے آئے ہیں عباسؑ تِرے بعد عدو

کانوں سے بالی سکینہؑ کی ہاں دولت دیکھو

دے سکی کرب و بلا میں نہ کفن بھائی کو

ہائے زینبؑ پہ یہ کیسی ہے مصیبت دیکھو

Wednesday, 11 August 2021

ازل سے تا بہ ابد کبریا حسین کے ساتھ

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 ازل سے تا بہ ابد کبریا حسین کے ساتھ

علی بتول حسن مصطفیٰ حسین کے ساتھ

وفا کے رب نے یہ مقتل میں شہ سے فرمایا

قسم بتول کی ہو گی وفا حسین کے ساتھ

غضب خدا کا کہ تُو ہے بہشت کا طالب

کرے الست سے جو تُو دغا حسین کے ساتھ

Tuesday, 3 August 2021

راہنما کل کارواں کے راہزن

 راہنما کل کارواں کے راہ زن

عزتوں کا لوٹتے رہتے ہیں دھن

فکر انساں پر ہے چھائی تیرگی

بے چراغاں جا بجا اہلِ سخن

گُل میں رنگ و بُو نہیں تو جان لے

دشت کی مانند ہے تیرا چمن

Monday, 2 August 2021

عشق وہ کنارہ ہے

 مختصر نظم


عشق وہ کنارہ ہے

جس کی بانہوں میں رہ کر

حُسن کا حسیں ساگر

پُر سکون بہتا ہے


مرتضیٰ زمان گردیزی

Friday, 30 July 2021

جہاں چمن میں بہار آ کر بھی مسکرائے تو کچھ نہ پائے

 جہاں چمن میں بہار آ کر بھی مسکرائے تو کچھ نہ پائے

وہاں پہ بھنورا کلی کے آگے سُروں میں گائے تو کچھ نہ پائے

شجر کی چہرے پہ انگلیوں کے قلم سے ہم نے ہے عشق لکھا

جنوں میں ہم نے یہ کارنامے بھی کر دِکھانے تو کچھ نہ پائے

گلاب رُخ کے دلوں پہ ہم نے پپیہے جیسا تڑپ کے یارو

محبتوں کے حسین نغمے بھی گنگنائے تو کچھ نہ پائے

سید مرتضیٰ زمان گردیزی؛ تعارف

سید مرتضیٰ زمان گردیزی؛ تعارف




نام؛ مرتضیٰ زمان 

خاندان؛ سادات گردیزی (زیدی الواسطی)

تاریخ پیدائش؛ 10 اپریل 1973

رہائش؛ ملتان، پاکستان

تعلیم؛ انٹر میڈیٹ (کراچی) 

قومیت؛ پاکستانی

عرفیت؛ مرتضیٰ 

صنف شاعری؛ صوفیانہ کلام، رثائی ادب، نظم، غزل 

زبان؛  ملتانی، اردو 

نوحہ سن لیجئے آقا یہ تمنائی کا

 "وقت یہ ناز مسیحا ہے مسیحائی کا"

نوحہ سن لیجئے آقاﷺ یہ تمنائی کا

اپنی ندوہ میں کرو ذکر محمدﷺ نے کہا

میرے وارث کا مِرے شیر جلی بھائی کا

نعت سرکارؐ پہ دن رات کہوں میں یا رب

ہو مجھے رزق عطا فکر کی بینائی کا

کتاب حق میں جو تازہ گلاب رکھتے ہیں

کتابِ حق میں جو تازہ گلاب رکھتے ہیں

عقیدہ با خدا وہ ٭مستطاب رکھتے ہیں

سدا درود جو پڑھتے ہیں آلِ احمدﷺ پر

وہ لوگ شب میں رخِ مہتاب رکھتے ہیں

وہی ہیں عبد، خدا کے، بقول شاہِ اُممﷺ

جو دل میں انس، شہِ بُوتراب رکھتے ہیں