Showing posts with label روش صدیقی. Show all posts
Showing posts with label روش صدیقی. Show all posts

Sunday, 23 August 2020

وہ نکہت گیسو پھر اے ہم نفساں آئی

وہ نکہتِ گیسو پھر اے ہم نفساں! آئی
اب دم میں دم آیا ہے اب جان میں جاں آئی
ہر طنز پہ رِندوں نے سر اپنا جھکایا ہے
اس پر بھی نہ واعظ کو تہذیب مغاں آئی
جب بھی یہ خیال آیا کیا دَیر ہے کیا کعبہ
ناقوسِ🎺 برہمن سے آوازِ اذاں آئی

چلا ہے لے کے مجھے ذوقِ جستجو میرا

چلا ہے لے کے مجھے ذوقِ جستجو میرا
اب انتظار کر اے جانِ آرزو! میرا
میں بن سکا نہ تِرا، یہ بجا سہی، لیکن
کسی کو کیوں یہ گماں ہو، نہیں ہے تُو میرا
ہوائے دشت بہت دور لے گئی اکثر
نہیں اسیرِ چمن ذوقِ رنگ و بُو میرا

Sunday, 19 July 2020

عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ

عہد و پیماں کر کے پیمانے کے ساتھ
عمر گزری تیرے مےخانے کے ساتھ
زندگی" بھی "جی چرا" کر رہ گئی"
کون مرتا تیرے دیوانے کے ساتھ
"یہ" نہ "پوچھو" رَہ نوردانِ "حرم"
کون چھوٹا ہم سے بتخانے کے ساتھ

شکست رنگ تمنا کو عرض حال کہوں

شکستِ رنگِ تمنا کو عرضِ حال کہوں
سکوتِ لب کو تقاضائے صد سوال کہوں
ہزار رخ تِرے ملنے کے ہیں، نہ ملنے میں
کسے فراق کہوں اور کسے وصال کہوں؟
مجھے یقیں ہے کہ کچھ بھی چھپا نہیں ان سے
انہیں یہ ضد، کہ دلِ مبتلا کا حال کہوں

Tuesday, 26 May 2020

ایک لغزش میں در پیر مغاں تک پہنچے

ایک لغزش میں درِ پیرِ مغاں تک پہنچے
ہم بھٹکتے تھے کہاں اور کہاں تک پہنچے
لطف تو جب ہے کہ اے محرمِ حسن گفتار
ہو کوئی بات مگر حسنِ بتاں تک پہنچے
یہ بھی کچھ کم نہیں اے رہروِ اقلیمِ یقیں
ہم خرابات نشیں حسنِ گماں تک پہنچے

Sunday, 9 October 2016

دور صبوحی شعلۂ مینا رقصاں چھاؤں میں تاروں کی

دورِ صبوحی شعلۂ مِینا رقصاں چھاؤں میں تاروں کی
پیرِ مغاں نے جام اٹھایا عید ہوئی مۓ خواروں کی
کتنے ہی در کھل جائیں گے جوشِ جنوں کو بڑھنے دو
بند رہے گا کیا درِ زنداں، خیر نہیں دیواروں کی
کافرِ عشق سمجھ کر ہم کو کتنے طوفاں اٹھتے ہیں
دل کی بات کو کس سے کہہ دیں بستی ہے دینداروں کی

کیا کہوں کیا ملا ہے کیا نہ ملا

کیا کہوں کیا ملا ہے کیا نہ ملا
دل بھی شایانِ دلربا نہ ملا
تلخئ زندگی، ارے توبہ
زہر میں زہر کا مزا نہ ملا
ہم کو اپنی خبر نہ دامن کی
چشمِ رحمت کو اک بہانہ ملا

شکست رنگ تمنا کو عرض حال کہوں

شکستِ رنگِ تمنا کو، عرضِ حال کہوں
سکوتِ لب کو تقاضائے صد سوال کہوں 
ہزار رخ تِرے ملنے کے ہیں نہ ملنے میں 
کسے فراق کہوں اور کسے وصال کہوں 
مجھے یقیں ہے کہ کچھ بھی چھپا نہیں ان سے 
انہیں یہ ضد ہے کہ دلِ مبتلا کا حال کہوں 

Friday, 11 March 2016

جوانی ہے غزل خوانی کے دن ہیں

جوانی ہے غزل خوانی کے دن ہیں
تمناؤں کی نادانی کے دن ہیں
نگاہوں میں جھجک ہے دل میں دھڑکن
محبت کی نگہبانی کے دن ہیں
بہت معصوم ہے ایک ایک لغزش
غرورِ پاک دامانی کے دن ہیں

تغافل خود ہے اقرار محبت

تغافل خود ہے اقرارِ محبت
یہ خاموشی ہے گفتارِ محبت
نہاں ہو یا نمایاں ہے بہرطور
محبت ہے سزاوارِ محبت
دلِ مہتاب ہو یا چشمِ انجم
نہیں ہے کون بیمارِ محبت

ہمیں رسم سفر آئی نہ انداز قیام آیا

ہمیں رسمِ سفر آئی نہ اندازِ قیام آیا
نجانے ہم کہاں ہوں گے اگر ان کا پیام آیا
دیارِ رنگ و نکہت میں گزر کیا ہوشمندوں کا
یہ پیغامِ بہار آیا تو دیوانوں کے نام آیا
سبو ہے شعلہ فشاں سایۂ دامانِ ساقی میں
لباسِ ہوش و تمکیں پھونک دینے کا مقام آیا

وفا کو پردۂ محرومئ دوام کیا

وفا کو پردۂ محرومئ دوام کیا
تمام عمر تِرے غم کا احترام کیا
انہیں نقاب اٹھانا بھی ہو گیا دشوار
کچھ اس طرح سے نگاہوں نے اژدہام کیا
خوشا وہ دردِ محبت کہ جس نے خود بڑھ کر
دلِ حزیں کی تسلی کا اہتمام کیا

Thursday, 1 October 2015

حرم ہو بتکدہ ہو دیر ہو کچھ ہو کہیں لے چل

حرم ہو بت کدہ ہو دیر ہو کچھ ہو، کہیں لے چل
جہاں وہ حسنِ لامحدود ہو، اے دل وہیں لے چل
دل اب تک دیکھتا ہے خواب تاثیرِ محبت کے
جہاں سے لائی تھی اے نامرادی! پھر وہیں لے چل
ابھی کچھ اور بھی رسوائیاں ہیں منتظر میری
اسی محفل میں مجھ کو اے دلِ خلوت نشیں! لے چل

یوں تو دشوار ہے زاہد رہ مے خانہ بہت

یوں تو دشوار ہے زاہد رہِ میخانہ بہت
رہنما دل ہو تو اک لغزشِ مستانہ بہت
دور ہی دور ذرا اے کششِ دیر و حرم
ہے کم آمیز، گدائے درِ جانانہ بہت
عرصۂ دہر بھی تیرے لیے کم اے واعظ
اور میرے لیے اک گوشۂ میخانہ بہت

Sunday, 10 May 2015

زہر چشم ساقی میں کچھ عجیب مستی ہے

زہرِ چشمِ ساقی میں کچھ عجیب مستی ہے
غرق کُفر و اِیماں ہیں، دَورِ مے پرستی ہے
شمع ہے سرِ محفل، کچھ کہا نہیں جاتا
شعلۂ زباں لے کر، بات کو ترستی ہے
زُلفِ یار کی زَد میں دَیر بھی ہے کعبہ بھی
یہ گھٹا جب اٹھتی ہے، دُور تک برستی ہے

وہ برق ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

 وہ برقِ ناز گُریزاں نہیں تو کُچھ بھی نہیں

مگر شریکِ رگِ جاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہزار، دل ہے تِرا مشرقِ مہ و خورشید

غُبارِ منزلِ جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں

سکونِ دِل تو کہاں ہے، مگر یہ خوابِ سکوں

نثارِ زُلفِ پریشاں نہیں، تو کچھ بھی نہیں