چلا ہے لے کے مجھے ذوقِ جستجو میرا
اب انتظار کر اے جانِ آرزو! میرا
میں بن سکا نہ تِرا، یہ بجا سہی، لیکن
کسی کو کیوں یہ گماں ہو، نہیں ہے تُو میرا
ہوائے دشت بہت دور لے گئی اکثر
شکستِ دل کی تلافی نظر سے کیا ہو گی
ٹپک پڑے نہ تِری آنکھ سے لہو میرا
مِری غزل کیلئے کون منتظر ہے روِش
پہنچ گیا ہے کہاں شوقِ گفتگو میرا
روش صدیقی
No comments:
Post a Comment