ہر گھڑی سانس ماجرا کیا ہے
زیست سے میرا رابطہ کیا ہے
قید ہیں خواب اک پرندے کے
پنجرے کی سمت دیکھتا کیا ہے
تتلیاں پھُول یا پری چہرے
خواب میں کوئی دیکھتا کیا ہے
ہر گھڑی سانس ماجرا کیا ہے
زیست سے میرا رابطہ کیا ہے
قید ہیں خواب اک پرندے کے
پنجرے کی سمت دیکھتا کیا ہے
تتلیاں پھُول یا پری چہرے
خواب میں کوئی دیکھتا کیا ہے
ملنے والے کہاں کہاں سے ملے
موت کو زندگی جہاں سے ملے
ایسا خُوش رنگ پُھول ہے اک تو
تیرا ثانی ناں گُلستاں سے ملے
ڈُوب جا عشق کے سمندر میں
راستے دل کے تو وہاں سے ملے
سبز لہجہ کہاں سمجھتا ہے
وہ تو اپنی زباں سمجھتا ہے
زاویے راس آ گئے اس کو
دُھوپ کو سائباں سمجھتا ہے
راستے کُھل گئے ہیں اس پہ مگر
منزلوں کو دُھواں سمجھتا ہے
دل کے دروازے پر نظر رکھیے
کون آتا ہے؟ یہ خبر رکھیے
پاؤں بالکل نہیں جلیں گے پھر
دھوپ کے سامنے شجر رکھیے
دوسرے کام بھی ضروری ہیں
اپنے سائے کی بھی خبر رکھیے