دل کے دروازے پر نظر رکھیے
کون آتا ہے؟ یہ خبر رکھیے
پاؤں بالکل نہیں جلیں گے پھر
دھوپ کے سامنے شجر رکھیے
دوسرے کام بھی ضروری ہیں
اپنے سائے کی بھی خبر رکھیے
روشنی بانٹتے ہیں تارے وہاں
آسمانوں پہ بھی نظر رکھیے
کچھ چراغوں کو رکھیے چوکھٹ پر
اور کچھ دل کی طاق پر رکھیے
یہ پھسل جائے گا کسی بھی جگہ
دل کو تھوڑا سا تھام کر رکھیے
رینو ورما
No comments:
Post a Comment