درد کو سامانِ راحت کر سکے
عشق ہی ایسی کرامت کر سکے
ہائے طوفاں، ہائے طوفاں، مت کرو
ریت کا حق ہے کہ ہِجرت کر سکے
اِس لیے ہم نے محبت چھوڑ دی
اور بھی کوئی محبت کر سکے
دل! سپاہِ جسم کے سالار کا
حق نہیں بنتا بغاوت کر سکے
کاش اب دل عشق کرنا چھوڑ دے
اور پھر حسبِ ضرورت کر سکے
عین عمر
No comments:
Post a Comment