Monday, 5 July 2021

صدا دیتی ہوئی آواز چپ ہے

 صدا دیتی ہوئی آواز چُپ ہے

کسی شعلہ نوا کا ساز چپ ہے

یہ سناٹے ہیں اب مانوس مجھ سے

کہ صدیوں سے مِری ہمراز چپ ہے

ابھی تو ہنس رہے ہو کھلکھلا کے

کرو گے کیا؟ کھلا جو راز چپ ہے

وگرنہ تو تماشا، اور ہوتا

لگا کر آگ آتش باز چپ ہے

جنوں کے راستے میں پا پیادہ

ہمیں بخشا گیا اعجاز چپ ہے


نازش غفار

No comments:

Post a Comment