Monday, 5 July 2021

زیست کے پورے سبھی ارکان کر

زیست کے پورے سبھی ارکان کر

ہاں مگر مرضی خُدا کی جان کر

بڑھ رہا ہے خواہشوں کا دائرہ

اے خُدا! مُشکل میری آسان کر

اجنبی کی طرح تیرے گاؤں سے

ہم ہوئے رُخصت تجھے پہچان کر

جانتے ہیں خاک میں مِل جائیں گے

چل رہے ہیں پھر بھی سینہ تان کر

پل میں تولہ پل میں ماشہ ہے مزاج

رُوٹھ جاتے ہیں وہ اکثر مان کر

خُود کی خاطر تُو جِیا، تو کیا جِیا

دوسروں پر زندگی قُربان کر

خیر و برکت کا اگر طالب ہے تُو

احترام و خدمتِ مہمان کر

کہہ رہی ہے چار دن کی زندگی

زندگی کے بعد کا سامان کر

موم کی مانند کامل ہو گیا

سنگ دل بھی درد میرا جان کر


ریاض الدین کامل

No comments:

Post a Comment