جوانی اس شجر کو
سینچنے میں ہی گزرتی جا رہی ہے
جس پہ میرا حق نہیں ہو گا
پر اس کے سائے سے پھل سے
کئی نسلیں جڑی ہوں گی
بہت ہی بے ضرر ہے عشق میرا
بے غرض بھی ہے
مگر پھر بھی یہ لاحاصل نہیں ہے
شجر ہوتا ہے جب کوئی ثمر آور
تو مالی کی تھکی جھولی
دعاؤں سے ہری ہو جایا کرتی ہے
تھکاوٹ کے سیہ اور زرد رنگوں سے
بری ہو جایا کرتی ہے
مجھے بیٹی سے اپنا عشق ثابت کرنے کی خاطر
اسے تقلید کے قابل بنانا ہے
فاطمہ نوشین
No comments:
Post a Comment