Monday, 5 July 2021

جوانی اس شجر کو سینچنے میں ہی گزرتی جا رہی ہے

 جوانی اس شجر کو

سینچنے میں ہی گزرتی جا رہی ہے

جس پہ میرا حق نہیں ہو گا

پر اس کے سائے سے پھل سے

کئی نسلیں جڑی ہوں گی

بہت ہی بے ضرر ہے عشق میرا

بے غرض بھی ہے

مگر پھر بھی یہ لاحاصل نہیں ہے

شجر ہوتا ہے جب کوئی ثمر آور

تو مالی کی تھکی جھولی

دعاؤں سے ہری ہو جایا کرتی ہے

تھکاوٹ کے سیہ اور زرد رنگوں سے

بری ہو جایا کرتی ہے

مجھے بیٹی سے اپنا عشق ثابت کرنے کی خاطر

اسے تقلید کے قابل بنانا ہے


فاطمہ نوشین

No comments:

Post a Comment