شام کہتی ہے کوئی بات جدا سی لکھوں
دل کا اصرار ہے پھر اس کی اداسی لکھوں
آج زخموں کو محبت کی عطا کے بدلے
تحفہ و تمغۂ احباب شناسی لکھوں
ساتھ ہو تم بھی مِرے ساتھ ہے تنہائی بھی
کون سے دل سے کسے وجہ اداسی لکھوں
شام کہتی ہے کوئی بات جدا سی لکھوں
دل کا اصرار ہے پھر اس کی اداسی لکھوں
آج زخموں کو محبت کی عطا کے بدلے
تحفہ و تمغۂ احباب شناسی لکھوں
ساتھ ہو تم بھی مِرے ساتھ ہے تنہائی بھی
کون سے دل سے کسے وجہ اداسی لکھوں
گرچہ جاتے ہوئے میں نے اسے روکا بھی نہیں
پیار اس سے نہ رہا ہو مجھے، ایسا بھی نہیں
مانگ لیتا میں محبت بھی بھکاری بن کر
درد سینے میں بہت تھا، مگر اتنا بھی نہیں
جس کی آہٹ پہ، نکل پڑتا تھا کل سینے سے
دیکھ کر آج اسے دل مِرا، دھڑکا بھی نہیں
دو جُھکی آنکھوں کا پہنچا جب مِرے دل کو سلام
یوں لگا ہے دوپہر میں جیسے در آئی ہو شام
اس کے ہونٹوں کا کیا جب ذکر میرے شعر نے
ہر سماعت کے لبوں سے جا لگا لبریز جام
جیسے سجدے میں کوئی گر کر نہ اٹھے دیر تک
یوں گری آنکھوں پہ پلکیں سن کے اک کافر کا نام
آمر عقل سے شہزاد بغاوت کر لیں
آؤ اس شخص سے اقرارِ محبت کر لیں
کل نہ جانے کہ کسے وقت کہاں لے جائے
آج پل بھر ہی سہی خواب حقیقت کر لیں
اس کو تہمت سے بچانا ہے ہر اک قسمت پر
ہنستے رہنا ہی چلو آج سے عادت کر لیں
میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے
سکوں سے کیسے گزرتا یہ راستہ مجھ سے
غزل سنا کے کبھی نظم گنگنا کے مِری
وہ کہہ رہا تھا مِرے دل کا ماجرا مجھ سے
گزر کے وقت نے گونگا بنا دیا تھا جنہیں
وہ لفظ مانگ رہے ہیں نئی صدا مجھ سے