Showing posts with label فرحت شہزاد. Show all posts
Showing posts with label فرحت شہزاد. Show all posts

Monday, 22 April 2024

شام کہتی ہے کوئی بات جدا سی لکھوں

 شام کہتی ہے کوئی بات جدا سی لکھوں

دل کا اصرار ہے پھر اس کی اداسی لکھوں

آج زخموں کو محبت کی عطا کے بدلے

تحفہ و تمغۂ احباب شناسی لکھوں

ساتھ ہو تم بھی مِرے ساتھ ہے تنہائی بھی

کون سے دل سے کسے وجہ اداسی لکھوں

Saturday, 4 September 2021

گرچہ جاتے ہوئے میں نے اسے روکا بھی نہیں

گرچہ جاتے ہوئے میں نے اسے روکا بھی نہیں

پیار اس سے نہ رہا ہو مجھے، ایسا بھی نہیں

مانگ لیتا میں محبت بھی بھکاری بن کر

درد سینے میں بہت تھا، مگر اتنا بھی نہیں

جس کی آہٹ پہ، نکل پڑتا تھا کل سینے سے

دیکھ کر آج اسے دل مِرا، دھڑکا بھی نہیں

Tuesday, 24 August 2021

دو جھکی آنکھوں کا پہنچا جب مرے دل کو سلام

 دو جُھکی آنکھوں کا پہنچا جب مِرے دل کو سلام

یوں لگا ہے دوپہر میں جیسے در آئی ہو شام

اس کے ہونٹوں کا کیا جب ذکر میرے شعر نے

ہر سماعت کے لبوں سے جا لگا لبریز جام

جیسے سجدے میں کوئی گر کر نہ اٹھے دیر تک

یوں گری آنکھوں پہ پلکیں سن کے اک کافر کا نام

Sunday, 11 July 2021

آمر عقل سے شہزاد بغاوت کر لیں

 آمر عقل سے شہزاد بغاوت کر لیں

آؤ اس شخص سے اقرارِ محبت کر لیں

کل نہ جانے کہ کسے وقت کہاں لے جائے

آج پل بھر ہی سہی خواب حقیقت کر لیں

اس کو تہمت سے بچانا ہے ہر اک قسمت پر

ہنستے رہنا ہی چلو آج سے عادت کر لیں

Monday, 31 May 2021

میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے

 میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے

سکوں سے کیسے گزرتا یہ راستہ مجھ سے

غزل سنا کے کبھی نظم گنگنا کے مِری

وہ کہہ رہا تھا مِرے دل کا ماجرا مجھ سے

گزر کے وقت نے گونگا بنا دیا تھا جنہیں

وہ لفظ مانگ رہے ہیں نئی صدا مجھ سے

Saturday, 29 August 2020

ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے
بِن تِرے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے
ہارنا دن کا ہے منظور، مگر جانِ عزیز
ہم سے گیسو تِرے ہارے نہیں دیکھے جاتے
دل پھنسا بھی ہو بھنور میں تو کوئی بات نہیں
رنج میں ڈوبتے پیارے نہیں دیکھے جاتے

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے

نہیں ہے اب کوئی رستہ نہیں ہے
کوئی جُز آپ کے، اپنا نہیں ہے
ہر اک رستے کا پتھر پوچھتا ہے
تجھے کیا کچھ بھی اب دکھتا نہیں ہے
عجب ہے روشنی تاریکیوں سی
کہ میں ہوں اور مِرا سایہ نہیں ہے

Saturday, 8 October 2016

پیار کرنے کی یہ اس دل کو سزا دی جائے

پیار کرنے کی یہ اس دل کو سزا دی جائے
اس کی تصویر سرِ عام لگا دی جائے
خط میں اس بار اسے بھیجیۓ یہ سُوکھا پتا
اور اس پتے پہ اک آنکھ بنا دی جائے
اتنی پی جائے کہ مِٹ جائے من و تو کی تمیز
یعنی یہ ہوش کی دیوار گِرا دی جائے

اب تم سے کبھی گرچہ ملاقات نہ ہو گی

اب تم سے کبھی گرچہ ملاقات نہ ہو گی
پر دل سے بھلانے کی تمہیں بات نہ ہو گی
تم مد مقابل ہو، مگر جان ہو میری
میں چال چلوں گا تو تمہیں مات نہ ہو گی
آنکھوں میں گھٹائیں تو اتر سکتی ہیں لیکن
اس ابر سے جاناں کبھی برسات نہ ہو گی

کیا ٹوٹا ہے اندر اندر کیوں چہرہ کمہلایا ہے

کیا ٹوٹا ہے اندر اندر، کیوں چہرہ کمہلایا ہے
تنہا تنہا رونے والوں، کون تمہیں یاد آیا ہے
چپکے چپکے سلگ رہے تھے، یاد میں ان کی دیوانے
ایک تارے نے ٹوٹ کے یارو، کیا ان کو سمجھایا ہے
رنگ برنگی اس محفل میں، تم کیوں اتنے چپ چاپ ہو
بھول بھی جاؤ پاگل لوگو، کیا کھویا، کیا پایا ہے

Saturday, 10 May 2014

کرب کا لشکر تھا مقابل اور تنہا ایک میں

کرب کا لشکر تھا مقابل اور تنہا ایک میں
سینکڑوں لاکھوں مسائل اور تنہا ایک میں
آندھیوں گرداب موجوں اور طوفانوں کے ساتھ
درپئے آزار ساحل اور تنہا ایک میں
میں جنہیں اپنا سمجھتا تھا انہیں ہمراہ لیے
آ رہا تھا میرا قاتل اور تنہا ایک میں

تنہا تنہا، مت سوچا کر

تنہا تنہا، مت سوچا کر
مر جائے گا، مت سوچا کر
پیار گھڑی بھر کا ہی بہت ہے
جھوٹا سچا، مت سوچا کر
جس کی فطرت ہی ڈسنا ہو
وہ تو ڈسے گا، مت سوچا کر

فیصلہ تم کو بھول جانے کا

فیصلہ تم کو بھول جانے کا ​
اِک نیا خواب ہے دیوانے کا ​
دل کلی کا لرز لرز اٹھا
ذکر تھا پھر بہار آنے کا ​
حوصلہ کم کسی میں ہوتا ہے ​
جیت کر خود ہی ہار جانے کا ​

Thursday, 8 May 2014

ایک بس تو ہی نہیں مجھ سے خفا ہو بیٹھا

ایک بس تُو ہی نہیں مجھ سے خفا ہو بیٹھا
میں نے جو سنگ تراشا وہ خدا ہو بیٹھا ​
اٹھ کے منزل ہی اگر آئے تو شاید کچھ ہو
شوقِ منزل تو میرا آبلہ پا ہو بیٹھا ​
مصلحت چھین گئی قوتِ گفتار مگر
کچھ نہ کہنا ہی مرا میری صدا ہو بیٹھا ​

Wednesday, 18 July 2012

کھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا

کُھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا
دھکتی آگ تھی، تنہائی تھی، فسانہ تھا
غموں نے بانٹ لیا مجھے یوں آپس میں
کہ جیسے میں کوئی لُوٹا ہوا خزانہ تھا
یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ تھک کے بیٹھ گئے
تمہیں تو ساتھ میرا دور تک نِبھانا تھا

نظر کے پار دیا سا جلا کے دیکھ لیا

نظر کے پار دِیا سا جلا کے دیکھ لیا
تمہارے در پہ کئی بار جا کے دیکھ لیا
نئی طرح سے، نئے ڈھنگ سے ہوئے مجرُوح
قدم قدم پہ تمہیں آزما کے دیکھ لیا
جگر کی کِرچیاں کچھ اور بھی بِکھر سی گئیں
گو اپنی پلکوں سے ہم نے اُٹھا کے دیکھ لیا