Sunday, 11 July 2021

آمر عقل سے شہزاد بغاوت کر لیں

 آمر عقل سے شہزاد بغاوت کر لیں

آؤ اس شخص سے اقرارِ محبت کر لیں

کل نہ جانے کہ کسے وقت کہاں لے جائے

آج پل بھر ہی سہی خواب حقیقت کر لیں

اس کو تہمت سے بچانا ہے ہر اک قسمت پر

ہنستے رہنا ہی چلو آج سے عادت کر لیں

کون منزل کے لیے لطفِ سفر کو کھوئے

چلتے رہنے سے ہی تجدیدِ رفاقت کر لیں

ہم نے سب دِیپ بجھا ڈالے ہیں امشب تاکہ

ساتھ جو چل نہ سکیں ترکِ محبت کر لیں


فرحت شہزاد

No comments:

Post a Comment