تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے
جب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھے
جب بھی کیا ارادۂ ترک تعلقات
کیا جانے کیوں وہ شوخ حسیں تر لگا مجھے
پرکھا تو ظلمتوں کے سوا اور کچھ نہ تھا
دیکھا تو ایک نور کا پیکر لگا مجھے
تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے
جب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھے
جب بھی کیا ارادۂ ترک تعلقات
کیا جانے کیوں وہ شوخ حسیں تر لگا مجھے
پرکھا تو ظلمتوں کے سوا اور کچھ نہ تھا
دیکھا تو ایک نور کا پیکر لگا مجھے
بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے
دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے
مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے
دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے
دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا
ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے زمانے مانگے ہے
حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ
آج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگ
آنکھ پُر نم ہونٹ لرزاں دل غموں سے پاش پاش
اس طرح بھی زندگی کا سامنا کرتے ہیں لوگ
اے زمانے کی روش تیری وفا کوشی کی خیر
عہد و پیماں توڑ کر وعدہ وفا کرتے ہیں لوگ
پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں
آج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوں
آج کے دور نے یہ کون سی کروٹ لی ہے
آج کے دور میں معصوم گنہگار ہے کیوں
بے گناہوں کا لہو شہر میں ارزاں ہی سہی
آسماں پر بھی وہی رنگ نمودار ہے کیوں
ہم پھرے شہر میں آوارہ و رُسوا برسوں
دل کے مندر میں تِرے وہم کو پوجا برسوں
وہ بدن چاند کے جیسا تھا مِرے عکس کے ساتھ
دن کی رونق میں بھی اک خواب سا دیکھا برسوں
قُرب نے کھول دئیے حسن کے عقدے سارے
زندگی کھاتی رہی عشق کا دھوکا برسوں
رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم
ہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہم
اس کو کیا کیجے کہ یہ بھی کھیل ہے تقدیر کا
ڈھونڈتے ہیں جب انہیں اپنا پتہ پاتے ہیں ہم
ایسی دنیا سے شکایت کیا، گلہ کیا، رنج کیا
پھول برساتی ہے دنیا، آگ برساتے ہیں ہم