Showing posts with label قادر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label قادر صدیقی. Show all posts

Saturday, 20 April 2024

تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے

 تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے

جب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھے

جب بھی کیا ارادۂ ترک تعلقات

کیا جانے کیوں وہ شوخ حسیں تر لگا مجھے

پرکھا تو ظلمتوں کے سوا اور کچھ نہ تھا

دیکھا تو ایک نور کا پیکر لگا مجھے

Thursday, 3 March 2022

بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے

 بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے

دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے

مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے

دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے

دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا

ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے زمانے مانگے ہے

Friday, 18 February 2022

حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ

 حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ

آج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگ

آنکھ پُر نم ہونٹ لرزاں دل غموں سے پاش پاش

اس طرح بھی زندگی کا سامنا کرتے ہیں لوگ

اے زمانے کی روش تیری وفا کوشی کی خیر

عہد و پیماں توڑ کر وعدہ وفا کرتے ہیں لوگ

Friday, 11 February 2022

پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں

 پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوں

آج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوں

آج کے دور نے یہ کون سی کروٹ لی ہے

آج کے دور میں معصوم گنہگار ہے کیوں

بے گناہوں کا لہو شہر میں ارزاں ہی سہی

آسماں پر بھی وہی رنگ نمودار ہے کیوں

Thursday, 10 February 2022

ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوں

 ہم پھرے شہر میں آوارہ و رُسوا برسوں

دل کے مندر میں تِرے وہم کو پوجا برسوں

وہ بدن چاند کے جیسا تھا مِرے عکس کے ساتھ

دن کی رونق میں بھی اک خواب سا دیکھا برسوں

قُرب نے کھول دئیے حسن کے عقدے سارے

زندگی کھاتی رہی عشق کا دھوکا برسوں

Wednesday, 9 February 2022

رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم

 رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہم

ہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہم

اس کو کیا کیجے کہ یہ بھی کھیل ہے تقدیر کا

ڈھونڈتے ہیں جب انہیں اپنا پتہ پاتے ہیں ہم

ایسی دنیا سے شکایت کیا، گلہ کیا، رنج کیا

پھول برساتی ہے دنیا، آگ برساتے ہیں ہم