Thursday, 3 March 2022

بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے

 بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے

دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے

مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے

دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے

دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا

ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے زمانے مانگے ہے

حالات نے آنسو بخشے ہیں تقدیر میں رونا لکھا ہے

اور وقت نہ جانے کیوں مجھ سے ہونٹوں پہ ترانے مانگے ہے

عقل اور خِرد دونوں مجھ کو دیتی ہیں دعائیں جینے کی

احساس مرا مجھ سے لیکن مرنے کے بہانے مانگے ہے

بستی کیسی محفل کیسی ، کیسے کُوچے کیسے بازار

دنیا سے جہاں چھپ کر رولے دل ایسے ٹھکانے مانگے ہے

ہر چاہ کا بدلہ چاہت ہو ہر پیار کا پیارا ہو انجام

کچھ سوچ ذرا تو دنیا سے کیا چیز دوانے مانگے ہے


قادر صدیقی

No comments:

Post a Comment