ملاقات ممکن نہیں
روپہلی چاندنی کے سنگ
اکیلے منڈیر پہ بیٹھے
لاحاصل لمحوں کے خواب دیکھنا
کہاں کی دانشمندی ہے
کورے ہاتھوں کے بیکراں لمس کو
اجنبی سانسوں سے پاک رکھنا کڑی مشقت ہے
یوں تو مُعطر سینے کی مہک
دوری کہاں محسوس ہونے دیتی یے
تم جو دیکھو
وہی روپہلی چاندنی کی کوری کرنیں
ستاروں سے خفا دکھیں گی
خفگی بھرے آسمان کو گدلا ہونے میں
دیر ہی کہاں لگتی ہے
بادِ نسیم کی اُلجھی زلفیں
سنوارنے والی مخروطی انگلیاں
دُوری کے چھالوں سے جُھلسی ہوئی ہیں
ابرپاروں کو چُھو کے دیکھو
ان کا مرہم وہیں ملے گا
شراپ دھرتی سے بہت اوپر
تم اور میں یکجا ملیں گے
ہمارے ملن سے امبر بنے گا
ہم جس کے آفتاب و ماہتاب ہوں گے
ستارے مسرُور و مسحُور ہو کر
ابد تک پھر ضوفشاں رہیں گے
پر تم یہ سب کہاں دیکھتی ہو؟
تمہارے ضمیر کی عدالت کا
اکھڑ منصف
بانجھ بیڑیوں میں تم کو جکڑے
مُنصفی کا ڈنکا پیٹتا ہے
میں تم سے اک ملاقات کا خواہش مند ہوں
دیانتداری سے ہم اس کا اہتمام کر لیں
تم سے نہ ہونے والی ملاقات کی خواہش
مجھے ذہنی مریض بنا سکتی ہے
علی زیوف
No comments:
Post a Comment