عین منزل پہ آ کے کہوں کیا کہ یہ راستا اور ہے
ہم غلط آ گئے ہیں یہاں یا خدا کا پتا اور ہے؟
اب ہوس ہی نہیں عاشقی کی بھی معیاد کم ہے ذرا
دیکھ لو دعویداروں کی فہرستِ خوش کن میں کیا اور ہے
ہم سے یہ کوہِ وحشت ہو سر تو غمِ خیر و شر بھی کریں
یوں بھی اپنے لیے اب حسابِ سزا و جزا اور ہے