Showing posts with label عدیل شاکر. Show all posts
Showing posts with label عدیل شاکر. Show all posts

Friday, 23 December 2022

عین منزل پہ آ کے کہوں کیا کہ یہ راستا اور ہے

 عین منزل پہ آ کے کہوں کیا کہ یہ راستا اور ہے

ہم غلط آ گئے ہیں یہاں یا خدا کا پتا اور ہے؟

اب ہوس ہی نہیں عاشقی کی بھی معیاد  کم ہے ذرا 

دیکھ لو دعویداروں کی فہرستِ خوش کن میں کیا اور ہے

ہم سے یہ کوہِ وحشت ہو سر تو غمِ خیر و شر  بھی کریں 

یوں بھی اپنے لیے اب حسابِ سزا و جزا اور  ہے

Wednesday, 5 October 2022

کب مدح گروہان خود آرا کے لیے ہے

 کب مدحِ گروہانِ خود آرا کے لیے ہے

رونا یہ مِرا، حلقۂ دانا کے لیے ہے

اب کیا وہاں سینے سے ہٹے کوہِ مصیبت

ہونا ہی جہاں وحشت و ایذا کے لیے ہے

پڑ جاتے ہیں بل پیٹ میں ہنستے ہوئے جس سے

یہ ڈھونگ بھی اک درد کے اِخفا کے لیے ہے

Saturday, 18 September 2021

میں تجھ سے خوش نہیں ہوں تو اس کا سبب سمجھ

 میں تجھ سے خوش نہیں ہوں تو اس کا سبب سمجھ

منہ مت بنا سمجھ، مِرا ذوقِ طلب سمجھ

یہ غم تو یوں بھی دردِ سرِ نسلِ نو نہیں

اب تو بھلے خوشی سے اسے بے ادب سمجھ

اک دن وہ مجھ سے کہنے لگا زعمِ حسن میں

تُو محض میرے کہنے پہ دن کو بھی شب سمجھ

Thursday, 16 September 2021

جو کماتا ہوں سو گنواتا ہوں

 جو کماتا ہوں سو گنواتا ہوں

اب اسی طور چین پاتا ہوں

وہ بہت جلد باز تھا اور میں

رفتہ رفتہ سمجھ میں آتا ہوں

تُو بھی اب کے خوشی سے ہاتھ ہلا

میں بھی پھر ایک بار آتا ہوں

Friday, 10 September 2021

بوجھ سینے سے ہٹانا پڑ گیا

 بوجھ سینے سے ہٹانا پڑ گیا

دل لگی میں دل لگانا پڑ گیا

بے دلی سے صبح نکلے کام کو

شام کو پھر گھر بھی جانا پڑ گیا

ایک ہی تو نام ہم کو یاد تھا

اس کو بھی آخر بھلانا پڑ گیا

Thursday, 9 September 2021

گلہ نمو کا نہ دل میں خزاں کا غم رکھا

 گِلہ نمو کا نہ دل میں خزاں کا غم رکھا

میں جس کی شاخ ہوں اس پیڑ کا بھرم رکھا

وہ ایک غم ہی تو دل بستگی کا ساماں ہے

تمام عمر ہمیں جس نے تازہ دم رکھا

کچھ اس لیے بھی میں کرتا ہوں احترام اس کا

سر آسماں کو چُھو کر بھی اس نے خَم رکھا

Friday, 18 June 2021

نیک نامی بھی گنواؤ گے دل و جان کے بعد

 نیک نامی بھی گنواؤ گے دل و جان کے بعد

ہے رہِ شوق میں نقصان ہی نقصان کے بعد

جوڑ کر سلسلہ تاوان کا تاوان کے بعد

یار احسان جتا دیتے ہیں احسان کے بعد

دے ذرا زیست جو مہلت تو کبھی ہو یہ حساب

خود میں کتنا ہوں بچا میں تِرے فقدان کے بعد

Friday, 30 April 2021

سر آباد خیالوں سے خوابوں سے نگر آباد

 سر آباد خیالوں سے خوابوں سے نگر آباد

ایک جہاں ہے باہر اپنے، اک اندر آباد

عشق تھا اپنی جگہ اٹل سمجھوتہ اپنی جا

ایک سے دل آباد رہا اور ایک سے گھر آباد

ساگر ساگر رونے والے، رو کر پھر مسکائے

رات رہے جو بستی ویراں، کرے سحر آباد