میں تجھ سے خوش نہیں ہوں تو اس کا سبب سمجھ
منہ مت بنا سمجھ، مِرا ذوقِ طلب سمجھ
یہ غم تو یوں بھی دردِ سرِ نسلِ نو نہیں
اب تو بھلے خوشی سے اسے بے ادب سمجھ
اک دن وہ مجھ سے کہنے لگا زعمِ حسن میں
تُو محض میرے کہنے پہ دن کو بھی شب سمجھ
اب گریۂ شکستِ توقع فضول ہے
میں کب سے کہہ رہا تھا زمانے کے ڈھب سمجھ
کیا کچھ اس ایک کارِ مروّت میں کھپ گیا
تُو اب تلک بھلا بھی اگر تھا تو اب سمجھ
شاکر کہاں تُو اور کہاں آدابِ صبر و شکر
یعنی کہ وہ جو کچھ بھی نہیں اس کو سب سمجھ
عدیل شاکر
No comments:
Post a Comment