Saturday, 18 September 2021

سکوت شام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

 سکوتِ شام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

ہمارے نام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

فنا کے نام سے سہما ہوا ہے سارا جہاں

بقا کے جام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

غزل کے شعر سا لہجہ لبھاونی باتیں

وفا کے دام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

ذرا سی بات کا چرچا یہ غلغلہ ہر سُو

کہو کہ کام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

ابھی تو آمدِ گُل کا بھی وقت آیا نہیں

تو احترام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

تمہیں کہو یہ جہاں ختم ہو رہا ہے تو پھر

نئے نظام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

امیر شہر ہے واقف، کہ کیا سناؤں گا

مِرے کلام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

یہاں تلک تو بہت محترم تھے رشتے مگر

اب اس مقام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

خبر نہیں کہ ہے دائم سکوں کسے حاصل

تو پھر دوام سے پہلے یہ شور ہے کیسا

ہوائیں کہتی ہیں اسرار منتظر ہے کوئی

مِرے قیام سے پہلے یہ شور ہے کیسا


علیم اسرار

No comments:

Post a Comment