Showing posts with label احسان عباس. Show all posts
Showing posts with label احسان عباس. Show all posts

Monday, 15 July 2024

لا حاصلی کے بین پہ گریہ نہیں کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لا حاصلی کے بین پہ گریہ نہیں کیا 

بے پر کے شور و شین پہ گریہ نہیں کیا 

گریہ کیا ہے سن کے رسولؐ و بتولؑ کو 

ہم نے یونہی حسینؑ پہ گریہ نہیں کیا

ہم لوگ وقتِ فجر بھی روتے رہے، فقط 

ظہرین و مغربین پہ گریہ نہیں کیا 

Wednesday, 28 September 2022

زہر اب آب و ہوا کا تو نہیں پِینا ہے

 زہر اب آب و ہوا کا تو نہیں پینا ہے

ہم کو زندان میں ڈالو کہ ہمیں جینا ہے

ہے مرض ایک ہی کیا شہر کے انسانوں کو

جو بھی مرتا ہے وہ کیوں تھامے ہوئے سینہ ہے

وسعتِ عالمِ امکان ذرا سوچیں تو

یہ زمیں اس میں فقط ایک قرنطینہ ہے

Sunday, 28 August 2022

یہاں ایمان بکتے ہیں یہاں قرآن بکتے ہیں

 یہاں ایمان بِکتے ہیں، یہاں قرآن بِکتے ہیں 

بڑی فہم و فراست سے یہاں میزان بِکتے ہیں

یہاں طاقت کے پروردہ کئی اصنام رہتے ہیں  

یہاں انصاف کیوں ہو گا یہاں انسان رہتے ہیں 

نبیؐ تو یاد ہیں سب کو مگر بُھولی شریعت ہے 

خدا کا بھی نہیں کچھ ڈر بڑی بے باک امّت ہے 

Wednesday, 24 August 2022

وہاں جو چاند اور تاروں میں اترا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ


 وہاں جو چاند اور تاروں میں اترا 

یہاں وہ تیر و تلواروں میں اترا 

بٹھایا تھا جسے دوشِ نبیﷺ پر  

بلا کی ریت پہ خاروں میں اترا 

تِرے دِیں کو بچانے والا آخر 

تِرے تکبیر کے نعروں میں اترا 

Sunday, 21 August 2022

گھڑی مجبوریوں کی چل رہی ہے

 گھڑی مجبوریوں کی چل رہی ہے 

کڑی ہے رات، لیکن ڈھل رہی ہے

کچھ ایسے ڈھب سے ہم رخصت ہوئے ہیں 

جدائی ہاتھ بیٹھی مَل رہی ہے

اکیلے میں وہ جانے کیا کرے گی 

جو میرے ساتھ بھی پاگل رہی ہے

Sunday, 29 August 2021

بہشت زر کے مکینوں کو آزماتا ہے

 بہشتِ زر کے مکینوں کو آزماتا ہے

مفاد سارے کمینوں کو آزماتا ہے

تمہارے گھر کے مقابل ہی ایک مسجد ہے

خدا بھی کیسے جبینوں کو آزماتا ہے

دل و دماغ و بدن سب ایک جا کر کے

کبھی کبھی تو وہ تینوں کو آزماتا ہے

Monday, 30 November 2020

سبز پتوں کی ہزیمت میں اڑے سوکھتے ہیں

 سبز پتوں کی ہزیمت میں اڑے سوکھتے ہیں

نشہ اترا ہے تو حیرت میں گڑے سوکھتے ہیں

کشتئ نوح سے اترے تو بہت بانکے تھے

یہ جو چپ چاپ ترے در پہ کھڑے سوکھتے ہیں

کوزہ گر جب سے جہاں زاد کا دیوانہ ہوا

ہم سے کتنے ہی تغاری میں پڑے سوکھتے ہیں