عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لا حاصلی کے بین پہ گریہ نہیں کیا
بے پر کے شور و شین پہ گریہ نہیں کیا
گریہ کیا ہے سن کے رسولؐ و بتولؑ کو
ہم نے یونہی حسینؑ پہ گریہ نہیں کیا
ہم لوگ وقتِ فجر بھی روتے رہے، فقط
ظہرین و مغربین پہ گریہ نہیں کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لا حاصلی کے بین پہ گریہ نہیں کیا
بے پر کے شور و شین پہ گریہ نہیں کیا
گریہ کیا ہے سن کے رسولؐ و بتولؑ کو
ہم نے یونہی حسینؑ پہ گریہ نہیں کیا
ہم لوگ وقتِ فجر بھی روتے رہے، فقط
ظہرین و مغربین پہ گریہ نہیں کیا
زہر اب آب و ہوا کا تو نہیں پینا ہے
ہم کو زندان میں ڈالو کہ ہمیں جینا ہے
ہے مرض ایک ہی کیا شہر کے انسانوں کو
جو بھی مرتا ہے وہ کیوں تھامے ہوئے سینہ ہے
وسعتِ عالمِ امکان ذرا سوچیں تو
یہ زمیں اس میں فقط ایک قرنطینہ ہے
یہاں ایمان بِکتے ہیں، یہاں قرآن بِکتے ہیں
بڑی فہم و فراست سے یہاں میزان بِکتے ہیں
یہاں طاقت کے پروردہ کئی اصنام رہتے ہیں
یہاں انصاف کیوں ہو گا یہاں انسان رہتے ہیں
نبیؐ تو یاد ہیں سب کو مگر بُھولی شریعت ہے
خدا کا بھی نہیں کچھ ڈر بڑی بے باک امّت ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
وہاں جو چاند اور تاروں میں اترا
یہاں وہ تیر و تلواروں میں اترا
بٹھایا تھا جسے دوشِ نبیﷺ پر
بلا کی ریت پہ خاروں میں اترا
تِرے دِیں کو بچانے والا آخر
تِرے تکبیر کے نعروں میں اترا
گھڑی مجبوریوں کی چل رہی ہے
کڑی ہے رات، لیکن ڈھل رہی ہے
کچھ ایسے ڈھب سے ہم رخصت ہوئے ہیں
جدائی ہاتھ بیٹھی مَل رہی ہے
اکیلے میں وہ جانے کیا کرے گی
جو میرے ساتھ بھی پاگل رہی ہے
بہشتِ زر کے مکینوں کو آزماتا ہے
مفاد سارے کمینوں کو آزماتا ہے
تمہارے گھر کے مقابل ہی ایک مسجد ہے
خدا بھی کیسے جبینوں کو آزماتا ہے
دل و دماغ و بدن سب ایک جا کر کے
کبھی کبھی تو وہ تینوں کو آزماتا ہے
سبز پتوں کی ہزیمت میں اڑے سوکھتے ہیں
نشہ اترا ہے تو حیرت میں گڑے سوکھتے ہیں
کشتئ نوح سے اترے تو بہت بانکے تھے
یہ جو چپ چاپ ترے در پہ کھڑے سوکھتے ہیں
کوزہ گر جب سے جہاں زاد کا دیوانہ ہوا
ہم سے کتنے ہی تغاری میں پڑے سوکھتے ہیں