Showing posts with label کاشف شجاع. Show all posts
Showing posts with label کاشف شجاع. Show all posts

Wednesday, 26 August 2026

جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

 جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے

پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے

پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے

گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا

اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے

Thursday, 20 August 2026

تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے

 تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے

ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے

ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی

ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے

ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا

بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے

Wednesday, 19 August 2026

محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

 محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے

تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت

تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے

پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا

یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے

Tuesday, 18 August 2026

نیا سفر ہے کوئی کارواں ہے کہ نہیں

 نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟

راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟

چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے

اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟

تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے

تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟

Monday, 17 August 2026

دکھ درد در و دیوار سبھی ایک ہوئے

 دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے

غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے

ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا

جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے

کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت

تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے