جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے
اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے
پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے
پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے
گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا
اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے
جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے
اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے
پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے
پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے
گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا
اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے
تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے
انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے
تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت
تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے
پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا
یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے
نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟
راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟
چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے
اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟
تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے
تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟
دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے
غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے
ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا
جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے
کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت
تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے