محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے
انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے
تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت
تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے
پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا
یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے
اب تو مجھے بھی یہ لگنے لگا ہے
کہ ہر شخص میں تھوڑی بیگانگی ہے
مجھے اِذن ہے یا میں خود چل رہا ہوں
کہ رستے میں ہر گام ویرانگی ہے
فقیروں کی دنیا میں جانے لگا ہوں
جہاں ہر خسارے میں دیوانگی ہے
کاشف شجاع
No comments:
Post a Comment