Wednesday, 19 August 2026

محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

 محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے

تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت

تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے

پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا

یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے

اب تو مجھے بھی یہ لگنے لگا ہے

کہ ہر شخص میں تھوڑی بیگانگی ہے

مجھے اِذن ہے یا میں خود چل رہا ہوں

کہ رستے میں ہر گام ویرانگی ہے

فقیروں کی دنیا میں جانے لگا ہوں

جہاں ہر خسارے میں دیوانگی ہے


کاشف شجاع

No comments:

Post a Comment