Sunday, 16 August 2026

سنانے آج آیا ہوں میں نوحہ ایک دھرتی کا

 نوحہ ایک دھرتی کا 


سنانے آج آیا ہوں

میں نوحہ ایک دھرتی کا

کہانی ایک مقتل کی

جہاں مقتول کے لب پر

صدا " اللہ اکبر" کی

جہاں قاتل کے لب پر بھی

وہی نعرہ، وہی کلمہ

نشان سجدے کا ماتھے پر

اِدھر بھی ہے، اُدھر بھی ہے

خُدا بھی ایک دونوں کا

نبی جی بھی محمدﷺ ہیں

اگر قاتل رہے زندہ

تو غازی نام پاتا ہے

جو مر جائے، شہید اس کو

یہ دنیا نام دیتی ہے

تو اے لوگو! بتاؤ تم

تو پھر کنکر ابابیلیں

بھلا کس پہ گِرائیں گی؟

کسے وہ ابرہہ سمجھیں

کسے اپنا بنائیں گی

دیارِ یار میں دیکھو

یہ کیسا جبر طاری ہے؟

خُدائے پاک کے بندو

یہ کیسی حُکمرانی ہے؟

یہ کیسی حُکمرانی ہے؟

جنہیں اپنا بنایا تھا

جنہیں دستار سونپی تھی

انہی سفّاک ہاتھوں نے

شہر مقتل بنا ڈالا

ہمیں غیروں سے کیا شِکوہ

سِتم اپنوں نے ڈھایا ہے

اسی کلمے کی حُرمت پر

اسی کلمے کے سائے میں


محمد عمیر سالک

No comments:

Post a Comment