فصلِ بہار ہو چکی، پھُول کوئی کِھلا نہیں
میں ہی خِزاں نصیب تھا، تجھ سے کوئی گِلہ نہیں
کچھ تو بہ پاسِ دوستی، ضبطِ خُوشی کی جہد کر
بار پہ میری ہنس مگر، ایسے تو کِھلکھلا نہیں
ہم نے یہ سوچ کر کِیا فرضِ نیاز سے گریز
ترک پر کیوں عتاب ہو، کرنے پہ جب صِلہ نہیں
سینہ و سر کا فاصلہ، کِرنوں کی رو پہ ہے گِراں
تُف بہ دماغِ ضوفشاں، دل ہی کو جب جِلا نہیں
روشنئ جمال سے، جب کہ کِیا نہ فیض یاب
میری غزل سے دُور رہ، لفظ میں جِھلملا نہیں
سیلئ ماجرا سے رُخ، کون سے دن ہوا نہ لال
ناخنِ یاد سے جِگر کون سی شب چِھلا نہیں
محمد منذر رضا
No comments:
Post a Comment