ہو نہ رُسوائے زمانہ مہِ کامل کی طرح
میرے سینے میں رہو آ کے مِرے دل کی طرح
تیرے دروازے پہ اے غیرت لیلیٰ! دن رات
سر پٹکتے رہے ہم پردۂ محمل کی طرح
اس قدر شوقِ شہادت نے مجھے دوڑایا
تھک گئے پاؤں مِرے بازوئے قاتل کی طرح
اک نظر دیکھ لے منہ پھیر کے او صید افگن
دل تڑپتا ہے مِرا طائرِ بِسمل کی طرح
وحشتِ دل سے ہو کیا عاشقِ گیسُو کو نجات
جادۂ دشت لِپٹتے ہیں سلاسل کی طرح
قدر جانو گے محبت کی تب اے جانِ جہاں
تم بھی جب رنج اُٹھاؤ گے مِرے دل کی طرح
آپ کُھل کھیلے اگر مجھ سے شبِ وصل تو کیا
نہ کُھلی دل کی گِرہ عقدۂ مُشکل کی طرح
رنگ لائے جو مِرا خونِ تمنّا وہبی
دامنِ حشر بنے دامنِ قاتل کی طرح
وہبی لکھنوی
شیو پرشاد وہبی
No comments:
Post a Comment