اثر دِکھلائے گا خُوابِ سحر آہستہ آہستہ
دِلوں سے جائے گا راتوں کا ڈر آہستہ آہستہ
نہیں بربادیوں کے واسطے یہ شرط دُنیا میں
مگر آباد ہوتے ہیں نگر آہستہ آہستہ
کہاں پھیلی ہے خُوشبو دفعتاً افکارِ عالی کی
کِیا شاداب سوچوں نے سفر آہستہ آہستہ
ابھی تو عیب ہی میرے ہیں یاروں کی نِگاہوں میں
ہُنر کی سمت جائے گی نظر آہستہ آہستہ
نظر آئی ہے مُدت بعد کوئی آشنا صُورت
مِرے دل کے بیاباں سے گُزر آہستہ آہستہ
واصف سجاد
No comments:
Post a Comment