Showing posts with label تنویر واحدی. Show all posts
Showing posts with label تنویر واحدی. Show all posts

Sunday, 31 March 2024

زلزلوں کا جو جائزہ لیں گے

 زلزلوں کا جو جائزہ لیں گے

لوگ توبہ کا آسرا لیں گے

ہم بھی طوفاں سے حوصلہ لیں گے

عزم کا اپنے جائزہ لیں گے

مسکراتے رہیں گے محفل میں

اپنے ہر درد کو چھپا لیں گے

Tuesday, 5 December 2023

وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے

 وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے

میں اس کو بھول سکوں میرے بس سے باہر ہے

اسیر پوری طرح سے نہ کر سکا صیاد

قفس میں جسم سے ہے اور دل قفس سے باہر ہے

تلاشِ یار میں برسوں رہا تھا جو پہلے

تلاشِ رزق میں وہ دس برس سے باہر ہے

Saturday, 2 December 2023

کتنا ہے گرم جھوٹ کا بازار دیکھنا

 کتنا ہے گرم جُھوٹ کا بازار دیکھنا

ملتا نہیں ہے سچ کا طلبگار دیکھنا

تنویرِ بے زبان کا اظہار دیکھنا

لفظوں کی آگ سے جلے اشجار دیکھنا

ہے دُھوم میرے شہر میں ایماں فروش کی

سب اہلِ حق ہیں اس کے گرفتار دیکھنا

Thursday, 10 March 2022

شہر وفا میں اجنبی چہرا کوئی نہ تھا

 شہر وفا میں اجنبی چہرہ کوئی نہ تھا

اپنا میں کہہ سکوں جسے ایسا کوئی نہ تھا

وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے

میں اس کو بھول سکوں میرے بس سے باہر ہے

ہو سکے تو فکر و فن کی روشنی بن جائیے

یاد صدیوں تک رہے جو وہ صدی بن جائیے