زلزلوں کا جو جائزہ لیں گے
لوگ توبہ کا آسرا لیں گے
ہم بھی طوفاں سے حوصلہ لیں گے
عزم کا اپنے جائزہ لیں گے
مسکراتے رہیں گے محفل میں
اپنے ہر درد کو چھپا لیں گے
زلزلوں کا جو جائزہ لیں گے
لوگ توبہ کا آسرا لیں گے
ہم بھی طوفاں سے حوصلہ لیں گے
عزم کا اپنے جائزہ لیں گے
مسکراتے رہیں گے محفل میں
اپنے ہر درد کو چھپا لیں گے
وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے
میں اس کو بھول سکوں میرے بس سے باہر ہے
اسیر پوری طرح سے نہ کر سکا صیاد
قفس میں جسم سے ہے اور دل قفس سے باہر ہے
تلاشِ یار میں برسوں رہا تھا جو پہلے
تلاشِ رزق میں وہ دس برس سے باہر ہے
کتنا ہے گرم جُھوٹ کا بازار دیکھنا
ملتا نہیں ہے سچ کا طلبگار دیکھنا
تنویرِ بے زبان کا اظہار دیکھنا
لفظوں کی آگ سے جلے اشجار دیکھنا
ہے دُھوم میرے شہر میں ایماں فروش کی
سب اہلِ حق ہیں اس کے گرفتار دیکھنا
شہر وفا میں اجنبی چہرہ کوئی نہ تھا
اپنا میں کہہ سکوں جسے ایسا کوئی نہ تھا
وہ مجھ کو یاد رکھے دسترس سے باہر ہے
میں اس کو بھول سکوں میرے بس سے باہر ہے
ہو سکے تو فکر و فن کی روشنی بن جائیے
یاد صدیوں تک رہے جو وہ صدی بن جائیے