فضا میں تیرتے رہتے ہو تم خبر کی طرح
میں اک کنارے پڑا ہوں شکسۃ پر کی طرح
چہل پہل نہیں کوئی نہ زندگی کا نشاں
مِرا وجود ہے تنہا اداس گر کی طرح
امیر شہر نے شک کی نگاہ سے دیکھا
غریب شہر ہے ہمراہ ہمسفر کی طرح
فضا میں تیرتے رہتے ہو تم خبر کی طرح
میں اک کنارے پڑا ہوں شکسۃ پر کی طرح
چہل پہل نہیں کوئی نہ زندگی کا نشاں
مِرا وجود ہے تنہا اداس گر کی طرح
امیر شہر نے شک کی نگاہ سے دیکھا
غریب شہر ہے ہمراہ ہمسفر کی طرح
یاد کا نشتر جو تنہائی نکیلا کر گئی
وقت کے سوکھے ہوئے زخموں کو گیلا کر گئی
وقت پڑنے پر وفا تیری جو حیلا کر گئی
زندگی کا پیچ و خم کچھ اور ڈھیلا کر گئی
درد کی بھٹی میں میری تشنگی تپتی رہی
آنچ کی شدت بدن کا رنگ نیلا کر گئی
چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں
معنی الجھ کے رہ گئے لفظوں کے جال میں
جیتا ہے کون بحث میں مورکھ سے آج تک
بے کار کیوں الجھتے ہو تم قیل و قال میں
لے جانے والے لوٹ کے سب کچھ چلے گئے
ہم سوچتے ہی رہ گئے؛ کالا ہے دال میں
جو میرے دل میں ہے ملنے کی آس رہنے دو
کسی کی دید کی آنکھوں میں پیاس رہنے دو
یقیں کی بات کرو، اب قیاس رہنے دو
نظر میں ضوفشاں سچ کا لباس رہنے دو
ہمارے باغ کے سب پھول پھل تمہارے ہیں
ہمارے واسطے بس خشک گھاس رہنے دو
غمخوار مل گیا تو سنبھلنے لگی ہے شام
میری رفاقتوں میں بہلنے لگی ہے شام
سورج کو قہر سے یہ چھپی تھی یہیں کہیں
جب ڈھل گیا ہے دن تو ٹہلنے لگی ہے شام
دوشیزۂ شفق کا ہے چہرہ حیا سے سرخ
آنچل میں اس کے چھپ کے مچلنے لگی ہے شام
ملا جہان میں جو بھی اداس اداس ملا
ہمارے عہد کا ہر شخص بدحواس ملا
تلاش جس کی مجھے دور دور رہتی تھی
کھلی جو آنکھ تو وہ میرے دل کے پاس ملا
پڑھا کبھی جو تِری زندگی کا افسانہ
مِرے لہو کا کچھ اس میں بھی اقتباس ملا
سیرِ چمن کروں تو وہاں بھی نہ جی لگےِ
پھولوں کی دلکشی میں تمہاری کمی لگے
اچھائی کو برائی سمجھتے رہے ہو تم
میری ہر ایک بات نہ کیسے بری لگے
جی چاہتا میرا کہ دل کھول کر ہنسوں
لیکن ہنسوں تو اپنی ہنسی کھوکھلی لگے