Showing posts with label شمیم ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label شمیم ہاشمی. Show all posts

Wednesday, 17 November 2021

فضا میں تیرتے رہتے ہو تم خبر کی طرح

 فضا میں تیرتے رہتے ہو تم خبر کی طرح

میں اک کنارے پڑا ہوں شکسۃ پر کی طرح

چہل پہل نہیں کوئی نہ زندگی کا نشاں

مِرا وجود ہے تنہا اداس گر کی طرح

امیر شہر نے شک کی نگاہ سے دیکھا

غریب شہر ہے ہمراہ ہمسفر کی طرح

Tuesday, 16 November 2021

یاد کا نشتر جو تنہائی نکیلا کر گئی

 یاد کا نشتر جو تنہائی نکیلا کر گئی

وقت کے سوکھے ہوئے زخموں کو گیلا کر گئی

وقت پڑنے پر وفا تیری جو حیلا کر گئی

زندگی کا پیچ و خم کچھ اور ڈھیلا کر گئی

درد کی بھٹی میں میری تشنگی تپتی رہی

آنچ کی شدت بدن کا رنگ نیلا کر گئی

Wednesday, 10 November 2021

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں

معنی الجھ کے رہ گئے لفظوں کے جال میں

جیتا ہے کون بحث میں مورکھ سے آج تک

بے کار کیوں الجھتے ہو تم قیل و قال میں

لے جانے والے لوٹ کے سب کچھ چلے گئے

ہم سوچتے ہی رہ گئے؛ کالا ہے دال میں

Monday, 8 November 2021

جو میرے دل میں ہے ملنے کی آس رہنے دو

 جو میرے دل میں ہے ملنے کی آس رہنے دو

کسی کی دید کی آنکھوں میں پیاس رہنے دو

یقیں کی بات کرو، اب قیاس رہنے دو

نظر میں ضوفشاں سچ کا لباس رہنے دو

ہمارے باغ کے سب پھول پھل تمہارے ہیں

ہمارے واسطے بس خشک گھاس رہنے دو

Sunday, 7 November 2021

غمخوار مل گیا تو سنبھلنے لگی ہے شام

 غمخوار مل گیا تو سنبھلنے لگی ہے شام

میری رفاقتوں میں بہلنے لگی ہے شام

سورج کو قہر سے یہ چھپی تھی یہیں کہیں

جب ڈھل گیا ہے دن تو ٹہلنے لگی ہے شام

دوشیزۂ شفق کا ہے چہرہ حیا سے سرخ

آنچل میں اس کے چھپ کے مچلنے لگی ہے شام

Saturday, 6 November 2021

ملا جہان میں جو بھی اداس اداس ملا

 ملا جہان میں جو بھی اداس اداس ملا

ہمارے عہد کا ہر شخص بدحواس ملا

تلاش جس کی مجھے دور دور رہتی تھی

کھلی جو آنکھ تو وہ میرے دل کے پاس ملا

پڑھا کبھی جو تِری زندگی کا افسانہ

مِرے لہو کا کچھ اس میں بھی اقتباس ملا

Friday, 5 November 2021

سیر چمن کروں تو وہاں بھی نہ جی لگےِ

 سیرِ چمن کروں تو وہاں بھی نہ جی لگےِ

پھولوں کی دلکشی میں تمہاری کمی لگے

اچھائی کو برائی سمجھتے رہے ہو تم

میری ہر ایک بات نہ کیسے بری لگے

جی چاہتا میرا کہ دل کھول کر ہنسوں

لیکن ہنسوں تو اپنی ہنسی کھوکھلی لگے