Tuesday, 16 November 2021

یاد کا نشتر جو تنہائی نکیلا کر گئی

 یاد کا نشتر جو تنہائی نکیلا کر گئی

وقت کے سوکھے ہوئے زخموں کو گیلا کر گئی

وقت پڑنے پر وفا تیری جو حیلا کر گئی

زندگی کا پیچ و خم کچھ اور ڈھیلا کر گئی

درد کی بھٹی میں میری تشنگی تپتی رہی

آنچ کی شدت بدن کا رنگ نیلا کر گئی

دل کے صحرا میں کسی کی یاد کے تلوے جلے

آنکھ کی بارش سلگتی ریت گیلا کر گئی

ان کی آنکھوں سے بہت بچنے کی کوشش کی مگر

بات ہی ایسی تھی جو چہرے کو پیلا کر گئی

یاد ماضی ذہن کے صحرا سے یوں گزری شمیم

فکر کے بکھرے ہوئے ذروں کو ٹیلا کر گئی


شمیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment