یاد کا نشتر جو تنہائی نکیلا کر گئی
وقت کے سوکھے ہوئے زخموں کو گیلا کر گئی
وقت پڑنے پر وفا تیری جو حیلا کر گئی
زندگی کا پیچ و خم کچھ اور ڈھیلا کر گئی
درد کی بھٹی میں میری تشنگی تپتی رہی
آنچ کی شدت بدن کا رنگ نیلا کر گئی
دل کے صحرا میں کسی کی یاد کے تلوے جلے
آنکھ کی بارش سلگتی ریت گیلا کر گئی
ان کی آنکھوں سے بہت بچنے کی کوشش کی مگر
بات ہی ایسی تھی جو چہرے کو پیلا کر گئی
یاد ماضی ذہن کے صحرا سے یوں گزری شمیم
فکر کے بکھرے ہوئے ذروں کو ٹیلا کر گئی
شمیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment