Showing posts with label ارشد مرزا. Show all posts
Showing posts with label ارشد مرزا. Show all posts

Sunday, 28 August 2022

ہم ختم نبوت کا جو اظہار کریں گے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہم ختمِ نبوت کا جو اظہار کریں گے

گر جرم عقیدت ہے تو ہر بار کریں گے

کامل ہے یقیں اس میں کہ مرزائی ہے کافر 

ہم بحث و مباحث نہ ہی تکرار کریں گے

پہلے بھی تو مردود غلاظت میں مَرا ہے

اب ہم بھی انہیں کیفرِ کردار کریں گے

Monday, 8 February 2021

ہرا بدن کبھی بنجر نہیں کیا میں نے

 ہرا بدن کبھی بنجر نہیں کِیا میں نے

اسے چھوا بھی تو پتھر نہیں کیا میں نے

ندی کا عکس سمندر نہیں کیا میں نے

کسی کو تیرے برابر نہیں کیا میں نے

تمہیں سِکھائے نہیں دلربائی کے انداز 

تمہارے حسن کو بہتر نہیں کیا میں نے

Saturday, 6 February 2021

جمال صبح کے تیور میں بات کرتا ہے

 جمال صبح کے تیور میں بات کرتا ہے

خدا بھی ساتھ مِرے سیر کو نکلتا ہے

حضور چھوڑیے شعری مبالغے ہیں سب

بھلا چراغ بھی کوئی ہوا میں جلتا ہے

ہم اپنے اپنے کناروں میں ڈوب جاتے ہیں

ہمارے بیچ سمندر انا کا پڑتا ہے

Thursday, 4 February 2021

پاس آ کے اسے دیکھیں تو کفن ہے بھائی

 پاس آ کے اسے دیکھیں تو کفن ہے بھائی

دور سے دنیا بھی عورت کا بدن ہے بھائی

اس کہانی میں کھُلا رہنا ہے دروازے کو

اس کہانی میں کوئی وعدہ شکن ہے بھائی

گھر کا سنتے ہی میں صحرا کی طرف بھاگتا ہوں

ہجر والوں کا یہی ایک وطن ہے بھائی

Monday, 25 January 2021

حضور ایسے نہ مجھ سے مباحثہ کیجے

 حضور ایسے نہ مجھ سے مباحثہ کیجے

دلیل دیجیے اور پھر مکالمہ کیجے

سوال یہ ہے کہ کیسے محبتیں سیکھیں ؟

جواب یہ ہے کہ بچوں سے رابطہ کیجے

گلے لگا کے کڑی دھوپ کو ہی گریہ ہو

کٹے شجر کا کسی سے تو تعزیہ کیجے

Sunday, 24 January 2021

ہمسفر سائے کو سمجھتا ہوں

 ہمسفر سائے کو سمجھتا ہوں

اس لیے دھوپ میں نکلتا ہوں

تیری گلیوں میں شور ہے میرا

کیا یہاں سے بھی میں گزرتا ہوں

ایک مزدور کا اثاثہ ہوں

میں جو ڈگری اٹھائے پھرتا ہوں

Saturday, 23 January 2021

کچھ نہ ہونے کی سہولت کا مزا لیتے ہیں

 کچھ نہ ہونے کی سہولت کا مزہ لیتے ہیں

لوگ بازار میں غربت کا مزہ لیتے ہیں

بِکنے والوں کی ہنسی صاف بتاتی ہے مجھے

یہ خریدار کی وقعت کا مزہ لیتے ہیں

ہجر نے راکھ نہیں پھول بنایا ہے مجھے

لوگ خوشبو سے محبت کا مزہ لیتے ہیں

Wednesday, 16 December 2020

دل دھڑکتا ہے ان کے پیار کے ساتھ

 دل دھڑکتا ہے ان کے پیار کے ساتھ

ہم تو جیتے ہیں ذکرِ یار کے ساتھ

ان کی یادوں میں ایسے کھوئے ہیں

دن گزرتے کہاں بہار کے ساتھ

دل کی دنیا مری بدل سی گئی

مہک دیکھی جو اپنے یار کے ساتھ