عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہم ختمِ نبوت کا جو اظہار کریں گے
گر جرم عقیدت ہے تو ہر بار کریں گے
کامل ہے یقیں اس میں کہ مرزائی ہے کافر
ہم بحث و مباحث نہ ہی تکرار کریں گے
پہلے بھی تو مردود غلاظت میں مَرا ہے
اب ہم بھی انہیں کیفرِ کردار کریں گے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہم ختمِ نبوت کا جو اظہار کریں گے
گر جرم عقیدت ہے تو ہر بار کریں گے
کامل ہے یقیں اس میں کہ مرزائی ہے کافر
ہم بحث و مباحث نہ ہی تکرار کریں گے
پہلے بھی تو مردود غلاظت میں مَرا ہے
اب ہم بھی انہیں کیفرِ کردار کریں گے
ہرا بدن کبھی بنجر نہیں کِیا میں نے
اسے چھوا بھی تو پتھر نہیں کیا میں نے
ندی کا عکس سمندر نہیں کیا میں نے
کسی کو تیرے برابر نہیں کیا میں نے
تمہیں سِکھائے نہیں دلربائی کے انداز
تمہارے حسن کو بہتر نہیں کیا میں نے
جمال صبح کے تیور میں بات کرتا ہے
خدا بھی ساتھ مِرے سیر کو نکلتا ہے
حضور چھوڑیے شعری مبالغے ہیں سب
بھلا چراغ بھی کوئی ہوا میں جلتا ہے
ہم اپنے اپنے کناروں میں ڈوب جاتے ہیں
ہمارے بیچ سمندر انا کا پڑتا ہے
پاس آ کے اسے دیکھیں تو کفن ہے بھائی
دور سے دنیا بھی عورت کا بدن ہے بھائی
اس کہانی میں کھُلا رہنا ہے دروازے کو
اس کہانی میں کوئی وعدہ شکن ہے بھائی
گھر کا سنتے ہی میں صحرا کی طرف بھاگتا ہوں
ہجر والوں کا یہی ایک وطن ہے بھائی
حضور ایسے نہ مجھ سے مباحثہ کیجے
دلیل دیجیے اور پھر مکالمہ کیجے
سوال یہ ہے کہ کیسے محبتیں سیکھیں ؟
جواب یہ ہے کہ بچوں سے رابطہ کیجے
گلے لگا کے کڑی دھوپ کو ہی گریہ ہو
کٹے شجر کا کسی سے تو تعزیہ کیجے
ہمسفر سائے کو سمجھتا ہوں
اس لیے دھوپ میں نکلتا ہوں
تیری گلیوں میں شور ہے میرا
کیا یہاں سے بھی میں گزرتا ہوں
ایک مزدور کا اثاثہ ہوں
میں جو ڈگری اٹھائے پھرتا ہوں
کچھ نہ ہونے کی سہولت کا مزہ لیتے ہیں
لوگ بازار میں غربت کا مزہ لیتے ہیں
بِکنے والوں کی ہنسی صاف بتاتی ہے مجھے
یہ خریدار کی وقعت کا مزہ لیتے ہیں
ہجر نے راکھ نہیں پھول بنایا ہے مجھے
لوگ خوشبو سے محبت کا مزہ لیتے ہیں
دل دھڑکتا ہے ان کے پیار کے ساتھ
ہم تو جیتے ہیں ذکرِ یار کے ساتھ
ان کی یادوں میں ایسے کھوئے ہیں
دن گزرتے کہاں بہار کے ساتھ
دل کی دنیا مری بدل سی گئی
مہک دیکھی جو اپنے یار کے ساتھ