پاس آ کے اسے دیکھیں تو کفن ہے بھائی
دور سے دنیا بھی عورت کا بدن ہے بھائی
اس کہانی میں کھُلا رہنا ہے دروازے کو
اس کہانی میں کوئی وعدہ شکن ہے بھائی
گھر کا سنتے ہی میں صحرا کی طرف بھاگتا ہوں
ہجر والوں کا یہی ایک وطن ہے بھائی
ہم جنوں پیشہ فقط عشق کِیا کرتے ہیں
دل لگی شہر کے لونڈوں کا چلن ہے بھائی
وہ جو کھڑکی ہے مجھے میر کی غزلوں سی ہے
وہ جو لڑکی ہے مِری وجہِ سخن ہے بھائی
ارشد مرزا
No comments:
Post a Comment