Thursday, 4 February 2021

وہ عمر بھر کی رفاقت کا اتنا پھل دے گا

 وہ عمر بھر کی رفاقت کا اتنا پھل دے گا

دکھوں پہ صبر کی تلقین کر چل دے گا

کشید کر کے گلِ جاں کی ساری خوشبوئیں

پھر اس کے بعد زمانہ تجھے مسل دے گا

خرد کی بات میں کچھ مصلحت بھی ہوتی ہے

جنوں نے جو بھی دیا فیصلہ اٹل دے گا

میں اس کو بھول تو جاؤں مگر سوال یہ ہے

زمانہ اس کا مجھے کون سا بدل دے گا

سکون درد کے پودے کو سینچتے رہنا

یہ پیڑ بن کے تجھے کتنے پھول پھل دے گا


سلطان سکون

No comments:

Post a Comment