وہ عمر بھر کی رفاقت کا اتنا پھل دے گا
دکھوں پہ صبر کی تلقین کر چل دے گا
کشید کر کے گلِ جاں کی ساری خوشبوئیں
پھر اس کے بعد زمانہ تجھے مسل دے گا
خرد کی بات میں کچھ مصلحت بھی ہوتی ہے
جنوں نے جو بھی دیا فیصلہ اٹل دے گا
میں اس کو بھول تو جاؤں مگر سوال یہ ہے
زمانہ اس کا مجھے کون سا بدل دے گا
سکون درد کے پودے کو سینچتے رہنا
یہ پیڑ بن کے تجھے کتنے پھول پھل دے گا
سلطان سکون
No comments:
Post a Comment