دوست پر فرد جرم
علی افتخار
تم ایک اچھے شخص نہیں ہو
تنہائی میں بہت سا پھیلاؤ ہے
اور بے بسی کے یوں دو ٹوک ہونے میں
وحشت ہوتی ہے
میں دُکھ کے پھیلے ہوئے پتھر پر
یاد کی میل خوری پوٹلی رکھ دیتا ہوں
مجھے کسی سے کہتے ہوئے شرم آتی ہے
سو میرے دوست، علی افتخار
سید علی افتخار
افتخار ررر شاہ
میں وہ سارے الزام تمہیں دیتا ہوں
جو ہم دوست
دسمبر کی دُھند آلود راتوں میں
بوڑھے پیڑوں کے نیچے لڑکھڑاتے ہوئے
غبار ہوتی آنکھوں سے راستہ ٹٹولتے ہوئے
نشے میں ٹوٹتی آوازوں میں
باہم گٹھ جوڑ کر کے دوسروں پر دھرتے تھے
بد دیانت دوست
وہ سب کتابیں کہاں ہیں؟
جنہیں لکھنے کا تم نے وعدہ کیا تھا
وہ لکیریں کہاں ہیں؟
جن میں تمہیں رنگ بھرنا تھا
تم اپنے ہر شعر میں
اپنی ہر نظم میں
مسلسل وعدہ کرتے تھے
کہ تم اس سے بھی رَسدار شعر کہو گے
تم سب راز کھول دو گے
تخلیق کی تھرتھراتی نیم تاریک خوابگاہوں میں
خیال اور شے کی ہمکناری کے
سب زاویے لکھو گے
تم نے یہ نہیں بتایا تھا
تم نظم ادُھوری چھوڑ دو گے
تم دوستوں کے ہاتھ خالی کر دو گے
تم ہماری زندگی کے جنگل سے
اس طرح ہجرت کرو گے
جیسے گولی کی آواز سن کر پرندے اڑان بھرتے ہیں
سید علی افتخار
یہ بندش نِبھانے کا طور نہیں تھا
تم نے نظم کی بحرِ مسلسل میں
خلیج پیدا کر دی ہے
تم نے مطلع میں سکتہ ڈال دیا ہے
تم نے تصویر قطع کر دی ہے
تم نے مکالمہ ختم کر دیا
تم نے میرے خواب مٹی میں ملا دئیے ہیں
سر بچے یا نہ بچے، طرۂ دستار گیا
شاہ کج فہم کو شوق دو سَری مار گیا
اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر
یاں تو آواز لگانا مِرا بیکار گیا
سرکشو! شکر کرو جائے شکایت نہیں دار
سر گیا، بار گیا، طعنۂ اغیار گیا
اولِیں چال سے آگے نہیں سوچا میں نے
زیست شطرنج کی بازی تھی، سو میں ہار گیا
صد ایام پہ پٹخے ہے دِوانہ سر کو
جس کو چاہا کہ نہ جائے وہی اُس بار گیا
علی افتخار جعفری
No comments:
Post a Comment